Urdu news

Friday, 30 September 2022

کراچی میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، 2 دہشتگرد ہلاک اور4 سیکورٹی اہلکار زخمی

کراچی کے علاقے ناردرن بائی پاس کے قریب جنجال گوٹھ میں سی ٹی ڈی اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 2 دہشت گرد مارے گئے جبکہ 4 اہلکار زخمی ہوگئے۔

سی ٹی ڈی حکام کے مطابق کراچی میں ناردرن بائی پاس کے قریب جنجال گوٹھ میں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر چھاپہ مارا گیا۔ فائرنگ کےتبادلے میں 2 دہشتگردوں ہلاک اور 4 سیکورٹی اہلکار زخمی ہوگئے۔  چاروں زخمی اہلکاروں کو مقامی اسپتال منتقل کردیا گیا  جن میں سے 2 اہلکاروں کی حالت تشویشناک ہے۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی آصف اعجاز شیخ کے مطابق  چھاپے کے دوران ایک خاتون اور ایک بچی کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا۔ سیکورٹی اہلکاروں اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ کئی گھنٹے تک جاری رہا۔ گھر سے بڑی تعداد میں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔کارروائی کے دوران علاقے کو سیل کرکے سڑکوں کو بند کردیا گیا تھا۔

The post کراچی میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، 2 دہشتگرد ہلاک اور4 سیکورٹی اہلکار زخمی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/U10oM4r

کوہلو کی دکان میں دھماکا، 2 افراد جاں بحق اور 20 زخمی

 کوئٹہ: کوہلو کے مرکزی بازار میں بم دھماکے کے باعث متعدد افراد زخمی ہوگئے جب کہ دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق دھماکہ بلوچستان کے شہر کوہلو کے مرکزی بازار میں مٹھائی کی دکان پر ہوا جس کے باعث دو افراد جاں بحق جب کہ 20 زخمی ہوگئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد دکان زمین بوس ہوگئی، کئی لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

ریسکیو اہلکاروں نے زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے، اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ 12 زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، لیویز اور ایف سی نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جب کہ ڈی ایچ کیو میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تاحال دھماکے کی نوعیت معلوم نہیں ہوسکی ہے، پولیس واقعے کی تحقیقات کررہی ہے۔

The post کوہلو کی دکان میں دھماکا، 2 افراد جاں بحق اور 20 زخمی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/VmwfFtD

عمران نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ  کی خلاف ورزی کی، اعظم تارڑ

 اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے قانون وانصاف اعظم نذیرتارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان کاسائفر کے معاملے پر غیر ذمے دارانہ اور سازشی بیانیہ قوم کے سامنے آچکا ہے۔

سابق وزیراعظم نے ملکی مفاد کیخلاف خطرناک کھیل کھیلا اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی، ملکی سلامتی پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا، سائبرسیکیورٹی سے متعلق قانون سازی متعلقہ فریقوں اور سول سوسائٹی کی مشاورت سے کی جائیگی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انھوں نے کہا کہ کل سے ایک آڈیو لیک زیربحث ہے جس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کے پرائیویٹ سیکرٹری کی گفتگو ہے جب بطور ارکان پارلیمنٹ یا وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا جاتا ہے تو اس میں یہ عہد کرتے ہیں کہ قومی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیحی نہیں دیں گے ۔

The post عمران نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ  کی خلاف ورزی کی، اعظم تارڑ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/EMzVB7g

بطور وزیراعلی کئے گئے فیصلوں سے خاندانی کاروبار کو نقصان ہوا،وزیراعظم

 اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بطور وزیراعلی پنجاب ایسے فیصلے کئے جس سے خاندانی کاروبار کو نقصان پہنچا۔

وزیراعظم شہباز شریف منی لانڈرنگ کیس میں لاہور کی اسپشل کورٹ میں پیش ہوئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ 20 سال پنجاب کا وزیراعلی رہا۔  میرے خلاف منی لانڈرنگ کا جھوٹا مقدمہ بنایا گیا۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ بطور وزیراعلی ایسے فیصلے کئے جن سے خاندانی کاروبار کو نقصان پہنچا۔ سفارش کے باوجود شوگر ملز کو سبسڈی دینے سے انکار کیا اور کہا کہ یہ پنجاب کے عوام کا  پیسہ ہے۔ مشکل ترین حالات میں  مجھے اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے۔پارٹی قائد نے سیاست کو داؤ پر لگا کر ریاست کو بچانے کی ذمہ داری دی۔ پیڑول کی قیمت اوپرجارہی ہے ملک میں سیلاب ہے۔ ہمارے لئے ایک ایک ڈالر قیمتی ہے۔

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ چینی کی ایکسپورٹ سے انکار کیا کیونکہ چینی کی قیمت بڑھی تو عوام مجھے معاف نہیں کریں گے۔ زرمبادلہ آنا کسے اچھا نہیں لگتا تاہم چینی مہنگی کرکے عوام پربوجھ نہیں ڈال سکتا۔ عدالت نے وزیراعظم شہبازشریف کی درخواست پر انہیں واپس جانے کی اجازت دے دی۔

وزیراعظم کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ  جب ایف آئی آر درج ہوئی تب شہباز شریف جیل میں تھے۔ ایف آئی آر میں یہ ملازمین نے یہ نہیں کہا کہ یہ اکاؤنٹس شہباز شریف کے کہنے پرکھلے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ چار ارب روپے کی چینی کی فروخت چھپائی گئی۔ دیکھنا ہے کہ کیا ایف آئی اے کو کارروائی کا اختیار ہے؟ اس میں ایف بی آر یا انکم ٹیکس کیا کارروائی کرسکتے ہیں۔

عدالت نے وزیراعظم شہبازشریف کی درخواست پر انہیں واپس جانے کی اجازت دے دی۔

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کا  ٹوئٹر پربیان میں کہنا تھا کہ  ایون فیلڈ ریفرنس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ احتساب کے نظام کو کس طرح نواز شریف اور مریم نواز کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کیا گیا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ اس طرح کی انتقامی کارروائیوں  سے ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا، سیاست کو نقصان پہنچا  اورجمہوری عمل متاثرہوا۔

The post بطور وزیراعلی کئے گئے فیصلوں سے خاندانی کاروبار کو نقصان ہوا،وزیراعظم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/mSTfjGJ

Thursday, 29 September 2022

ایم کیو ایم رکن سندھ اسمبلی کے گھر کے باہر فائرنگ

 کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے رکن سندھ اسمبلی صداقت حسین کی رہائش گاہ اورنگی ٹاؤن سیکٹر ساڑھے گیارہ عزیز نگر میں فائرنگ کے واقعہ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق واقعہ گھر کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے پیش آیا ، گھر کے مرکزی گیٹ پر بھی گولیاں لگیں ، خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔

اس حوالے سے صداقت حسین نے بتایا کہ وہ گھر پر موجود نہیں تھے،اہلخانہ نے فون کر کے بتایا کہ گھر کے باہر فائرنگ ہوئی ہے، جب اس کی معلومات حاصل کی گئیں تو واقعہ ڈکیتی کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ کا نکلا۔

انھوں نے بتایا کہ کچھ افراد اپنے دستاویزات کی تصدیق کے لیے میرے گھر آئے تھے اور وہ گلی میں کھڑے تھے کہ موٹر سائیکلوں پر سوار 4 ڈاکو آئے اور انھوں نے لوٹ مار کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کی، فائرنگ کے نتیجے میں گولیاں ان کے گھر کے مرکزی گیٹ پر بھی لگیں تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں گزشتہ ایک ہفتے سے پاکستان بازار تھانے کی حدود میں ڈکیتی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے حوالے سے بتا رہا تھا۔

اس حوالے سے ایس پی اورنگی ٹاؤن قیس خان نے بتایا کہ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے واقعہ کی تفصیلات معلوم کیں، اس حوالے سے سیکیورٹی کو مزید بڑھایا جارہا ہے۔

The post ایم کیو ایم رکن سندھ اسمبلی کے گھر کے باہر فائرنگ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/EQmdOn0

ایون فیلڈ ریفرنس فیصلہ: اللہ تعالیٰ نے حق اور سچ پوری دنیا کو دکھا دیا، نواز شریف

 لندن: مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی بریت پر ردعمل جاری کردیا۔

لندن میں اپنی رہائش گاہ کے باہر میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ’مریم نواز کی بریت پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں، میں نے کئی سال پہلے ہی اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ اگر انسان سچا ہو تو اللہ ساتھ نہیں چھوڑتا، اللہ تعالیٰ نے فتح دے کر حق اور سچ پوری دنیا کو دکھا دیا۔

مزید پڑھیں: ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور صفدر کی سزائیں کالعدم قرار، نااہلی بھی ختم

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے آج مسلم لیگ ن کی نائب صدر اور نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اور اُن کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کو ایون فیلڈ ریفرنس میں بری کرتے ہوئے 7 سال کی سزا کو کالعدم قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کی وطن واپسی کی تیاری، وکلا کو عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

عدالتی فیصلے پر وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزرا اور حکومت اتحاد میں شامل رہنماؤں و سیاسی قائدین نے مریم نواز کو مبارک باد پیش کی اور اسے حق و سچ پر مبنی فیصلہ قرار دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کی سزائیں کالعدم قرار دئیے جانے پر کہا کہ امید ہے کہ میرے قائد محمد نوازشریف کے خلاف جج ارشد ملک مرحوم کی گواہی پر انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے، اللہ نے ہمیں سرخرو کیا اور مریم بیٹی کو انصاف ملا۔

اسے بھی پڑھیں: مریم نواز کی بریت؛ فواد چوہدری نے فیصلے کو تاریخ کا تاریک دن قرار دے دیا

ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالی کے حضور ہمارے سر شکر کے احساس سے جھکے ہوئے ہیں کہ اس نے ہمیں سرخرو فرمایا، سیاسی انتقام کا ایک تاریک دور آج انجام کو پہنچا اور بے گناہ سرخرو ہوئے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مریم نواز شریف اور کیپٹن (ر) صفدر نے بہادری، صبر اور ثابت قدمی سے مشکل ترین حالات کا سامنا کیا،عدالتی فیصلے سے جھوٹ، بہتان، اور کردار کشی کی تمام عمارت زمیں بوس ہو گئی ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ مریم نواز کا بری ہونا اس سیاسی انتقام کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ ہے جس کے ذریعے شریف خاندان کو نشانہ بنایا گیا۔

The post ایون فیلڈ ریفرنس فیصلہ: اللہ تعالیٰ نے حق اور سچ پوری دنیا کو دکھا دیا، نواز شریف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/XOFPaEs

حکومت کا آئی ایم ایف کی رضامندی کے بعد پیٹرول کی قیمت میں کمی کا فیصلہ

 اسلام آباد: آئی ایم ایف کی پٹرول پر عائد ٹیکس تین ماہ کیلئے منجمد کرنے پر رضامند ظاہر کرنے کے بعد وزارت خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اصولی فیصلہ کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق آئی ایم ایف نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ٹیکس تین ماہ کیلئے منجمد کرنے پر اصولی رضامندی ظاہر کی ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کل ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی آئی ایم ایف کے ساتھ کوئی حتمی معاہدہ نہیں۔ آئی ایم ایف معاہدے کے تحت جنوری 2023 تک پٹرول پر پٹرولیم لیوی 50روپے فی لیٹر تک بڑھانا ہے۔

واضح رہے کہ پیٹرول پر اس وقت 37.42 روپے فی لیٹر کے لگ بھگ پیٹرولیم لیوی عائد ہے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 7.35 روپے فی لیٹر کے لگ بھگ ہے، اس کے علاؤہ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل پر دس دس روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی عائد ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل فی لیٹر پٹرولیم لیوی بتدریج بڑھا کر پچاس روپے کی جائے گی۔

 

The post حکومت کا آئی ایم ایف کی رضامندی کے بعد پیٹرول کی قیمت میں کمی کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/Xc4jr1O

لاہور میں بیوی کے قتل کے 15 سال بعد مقدمہ درج، شوہر گرفتار

 لاہور: تھانہ چوہنگ میں 15 سال بعد خاتون کے قتل کی ایف آئی آر درج کرلی گئی۔

ریاست علی نے تبسم شہزادی کے ساتھ پسند کی شادی کی تھی۔ ملزم نے بیوی کے قتل کی واردات کی لیکن واقعے کی نہ ایف آئی آر درج ہوئی نہ لاش ملی ۔ ملزم ریاست علی نے 15 سال پہلے بیوی کو قتل کرکے لاش کے ٹکڑے کرکے مختلف جگہوں پر پھینکے تھے۔

تبسم شہزادی کے گھر والوں نے 15 سال تک بیٹی سے رابطہ نا ہونے پر شک کا اظہار کیا۔ خاتون کی ماں اور بہن نے ملزم کو شبہ کی بنیاد پر گرفتار کروایا۔ ملزم نے گرفتاری کے بعد پولیس کی حراست میں اعتراف جرم کیا۔

ایس پی اقبال ٹاؤن آپریشن نے ملزم کا بیان سنا۔ پولیس انویسٹی گیشن میں پتہ چلا ملزم ہی بیوی کا قاتل ہے لیکن مقدمہ درج نہیں ہوا۔ قتل کے 15سال بعد قاتل کے گرفتار ہونے پر مقتولہ کی ماں حفیظاں بی بی کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کی گئی۔

The post لاہور میں بیوی کے قتل کے 15 سال بعد مقدمہ درج، شوہر گرفتار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/261rHG5

ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور صفدر کی سزائیں کالعدم قرار، نااہلی بھی ختم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور کیپٹن (ر ) صفدر کی سزائیں کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بری کردیا اس کے ساتھ ہی مریم نواز کی نااہلی بھی ختم ہوگئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف مریم نواز اور کپیٹن (ر) صفدر کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ سماعت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے کی۔ عدالت میں نیب پراسیکوٹر عثمان جی راشد چیمہ آج پیش نہیں ہوئے دوسرے نیب پراسیکوٹر سردار مظفر عباسی، مریم نواز کے وکیل امجد پرویز پیش ہوئے۔

عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے متعدد سوالات پوچھ رکھے تھے جس پر نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے اپنے دلائل شروع کیے۔ مظفر عباسی نے کیس میں نیب کا ریکارڈ پڑھا کہ حسن اور حسین نواز نے سپریم کورٹ میں ایک متفرق درخواست دی، چھبیس جنوری 2017ء کو یہ درخواست دی گئی تھی،  طارق شفیع کا بیان حلفی ریکارڈ پر رکھا گیا تھا، اُس بیان حلفی میں گلف اسٹیل کی فروخت کا بتایا گیا، سپریم کورٹ نے سوال اٹھایا تھا گلف اسٹیل مل بنی کیسے؟ طارق شفیع یہ دکھانے میں ناکام رہے تھے کہ وہ بزنس پارٹنر تھے۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سوال پھر وہیں سے شروع ہوتا ہے کہ چارج کیسے ثابت ہورہا ہے؟ آمدن سے زائد اثاثوں میں نواز شریف ، مریم کا لنک بتا دیں، ابھی تک ان کا کہیں بھی لنک ثابت نہیں ہو رہا پھر بھی آپ پڑھیں۔

عدالت نے کہا کہ واجد ضیا کا یہ بیان اور سارا مواد پراسیکیوشن کا کیس کیسے ثابت کرتا ہے؟ سوال وہی ہے اس سارے مواد سے آپ کوئی جرم کیسے ثابت کرتے ہیں؟

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ واجد ضیا نے یہ سارا ریکارڈ خود دیکھا تھا، جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اثاثوں کے کیس میں مریم نواز کا نواز شریف سے لنک کیا ہے؟ دیانت داری سے نہیں تو ابھی تک کوئی لنک آپ نے نہیں دکھایا۔

سردار مظفر نے کہا کہ میں دستاویزات سے ہی پڑھ کر دکھاؤں گا جس پر عدالت نے کہا کہ وقت کیوں ضائع کرنا سیدھا اُس طرف آئیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ تفتیشی افسر کی رائے کو شواہد کے طور پر نہیں لیا جاسکتا، جے آئی ٹی نے کوئی حقائق بیان نہیں کیے، صرف جمع کی گئی معلومات دیں۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ بتائیں کہ ان سب باتوں سے الزام کیسے ثابت ہو رہا ہے؟ نیب پراسیکیورٹر مظفر عباسی نے کہا کہ واجد ضیا نے یہ ڈاکومنٹس خود دیکھے اور اس پر اپنی رائے کا اظہار کیا، میں ڈاکومنٹس سے دکھاؤں گا کہ یہ پراپرٹیز 1999ء میں خریدی گئیں۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ان پراپرٹیز کی خریداری کے لیے کتنی رقم ادا کی گئی؟ آپ اس متعلق ڈاکومنٹ دکھائیں، زبانی بات نہ کریں، کل یہ ساری چیزیں ججمنٹ میں آنی ہیں، آف شور کمپنیوں نے اپارٹمنٹ کتنی قیمت میں خریدا؟ اپیل میں کام آسان ہوتا ہے کہ جو چیزیں ریکارڈ پر موجود ہیں انہی کو دیکھنا ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے نیب سے سوال کیا کہ نواز شریف کا اس کیس کے حوالے سے موقف کیا ہے؟ جس پر مظفر عباسی نے کہا کہ نواز شریف کا موقف تھا کہ ان کا اس پراپرٹی سے کوئی تعلق نہیں۔

عدالت نے کہا کہ جب نواز شریف نے بیان دیا کہ ان کا تعلق نہیں تو پھر آپ کو ریکارڈ سے تعلق ثابت کرنا ہے، آپ متضاد بات کر رہے ہیں گزشتہ سماعت پر نیب پراسیکوٹر نے کہا تھا پراپرٹیز خریدنے میں مریم کا کوئی کردار نہیں اب آپ کہہ رہے ہیں مریم نواز کا کردار اس وقت تھا پہلے کلئیر تو کرلیں۔

عدالت نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ میں سی ایم اے فائل نا ہوتی تو آپ کا کیس تو کچھ بھی نہیں تھا، وہاں ہر چیز ڈاکیومینٹڈ ہوتی ہے، ریکارڈ لانا مشکل نہیں جس پر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ نے پراپرٹی کی ملکیت ثابت کردی ہے، مالیت غیر اہم ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ غلط بات کر رہے ہیں، آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس میں قیمت کا تعین ضروری ہے،  نیب کا پورا کیس شریف خاندان کے اپنے جوابات پر بنایا گیا، اگر شریف خاندان سپریم کورٹ میں جواب دائر نہ کرتا تو کیس نہیں بن سکتا تھا، گزشتہ سماعت پر دوسرے پراسیکیوٹر نے ایک الگ موقف لیا اور اُس پراسیکیوٹر نے کہا تھا کہ مریم نواز کا جائیداد کی خریداری میں کوئی تعلق نہیں اور آج آپ کہہ رہے ہیں کہ مریم نواز 1993ء سے بینیفشل مالک تھیں۔

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ نواز شریف نے یہ جائیدادیں مریم کے ذریعے چھپائیں اس پر جسٹس عمر فاروق نے کہا کہ آپ جو بات کہہ رہے ہیں اسے شواہد سے ثابت کریں، آپ اِدھر اُدھر نہ جائیں جو خود کہا اسے ثابت کریں۔

مظفر عباسی نے کہا کہ یہ بیرون ملک بنائی گئی جائیداد کا کیس ہے جس کی دستاویزات بھی وہی بنیں، جو ریکارڈ رسائی میں تھا وہی دستاویزات لائے اور کیا لاتے؟ اس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ اس کیس کو زیادہ بہتر طریقے سے بنا سکتے تھے، واجد ضیا کو پتا چلا تھا اگر پانچ سو ملین مالیت ہے تو دستاویزات لائی جا سکتی تھیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ جو بات سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے بیان کی ہے یہ واجد ضیا اپنے بیان میں ذکر کر چکے ہیں، سپریم کورٹ میں جمع کرائی سی ایم اے نواز شریف کا بیان نہیں ہے، جو بھی دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع ہوئیں ان کی تحقیقات نہیں ہوئیں، نیب نے تحقیقات کرنی تھیں جو نہیں کیں۔

عدالت نے نیب سے استفسار کیا کہ آپ دستاویزات سے بتائیں جو انہوں نے سی ایم اے میں کہا وہ غلط ہے یا ٹھیک، آپ نے کہاں ثابت کیا کہ یہ ساری پراپرٹیز نواز شریف کی ہیں، اگر نواز شریف کا کردار ثابت ہوگا تب ہی مریم کے کردار کو دیکھیں گے، سردار صاحب کیس تقریباً مکمل ہو گیا ہے اب وہ ڈاکومنٹ دیکھا دیں جو کہیں چھپا ہوا ہے۔ وکیل مریم نواز امجد پرویز نے کہا کہ ان کے پاس سرٹیفائیڈ ڈاکیومنٹ کی فوٹو کاپی ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ گواہ اور ملزم بیانات ریکارڈ کراتے ہیں، تفتیشی افسر نے شواہد اکٹھے کرنے تھے، دادا اگر اپنے پوتے کے لیے کوئی سیٹلمنٹ کر رہا ہے تو اس میں نواز شریف تو کہیں نہیں آیا، فلیٹس کمپنی کی اونر شپ ہونے پر تو کوئی اختلاف نہیں اس پر مریم نواز کے وکیل نے کہا کہ جی بالکل کوئی اختلاف نہیں۔

اس دوران نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے نیلسن اور نیسکول کی رجسٹریشن کا دستاویز دکھایا جس پر مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ یہ تصدیق شدہ سرٹیفکیٹ آف اِن کارپوریشن کی کاپی ہے۔ عدالت نے کہا کہ کئی دستاویزات پر ملزمان کے وکلا نے ٹرائل میں اعتراضات اٹھائے تھے ، دیکھنا ہے کیا ٹرائل کورٹ نے فیصلے میں ان اعتراضات کو وجوہات سے مسترد کیا؟

وکیل مریم نواز نے کہا کہ یہ جو دستاویزات دکھا رہے ہیں ان پر لکھا کہ کسی کے” کئیر آف‘‘ سے آئیں جس پر عدالت نے پوچھا کہ کیا جن کے ذریعے یہ دستاویزات آئیں ان کا بیان لیا؟ اس پر نیب نے کہا کہ ہمیں ضروت نہیں تھی، ملزمان کو جرح کرنی تھی تو لے آتے۔

جسٹس محسن نے ریمارکس دیے کہ آپ کہہ رہے ہیں چاروں اپارٹمنٹس کی اونرشپ ان کمپنیوں کے نام ہے اور بینفشل اونر مریم ہے، نواز شریف کہاں ہیں ؟ وہ کہیں نہیں؟ اگر ان کا اعتراف بھی مان لیا جائے تو ان کا کیس 2006ء سے ہی بنتا ہے، ڈسٹرکٹ کورٹ سے کسی وکیل کو ہائر کریں تو وہ خود لکھتا ہے کہ میری معلومات میں یہ ہے، اس دستاویز کی بنیاد پر دعویٰ ڈگری نہیں ہوتا سزا تو مختلف بات ہے، اس طرح تو آپ کا کیس تو مریم نواز کے حوالے سے ہے دیگر ملزمان کے خلاف تو ہے ہی نہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ نواز شریف کے حوالے سے کوئی ایک ثبوت دے دیں کہ وہ کہیں لنک کر رہا ہے، آپ کے کہنے سے تو نہیں ہو جائے گا ڈاکومنٹ سے دکھائیں،اب آپ کہہ رہے ہیں کہ مریم نواز ساری جائیداد کی بینیفشل مالک ہیں؟ تو کیا اب یہ سمجھیں کہ نواز شریف کا اس کیس سے تعلق ہی نہیں تھا؟ نواز شریف کا تو نام کہیں بھی نہیں آرہا، سمجھ نہیں آتی نواز شریف کو آپ لنک کیسے کر رہے ہیں؟

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ مان لیتے ہیں کہ سپریم کورٹ میں جو سی ایم اے انہوں نے ڈالی وہ غلط ہے، دو ڈاکومنٹس پر آپ کا کیس ہے ان میں نواز شریف سے متعلق ثبوت بتا دیں، مریم پر پرائمری چارج نہیں، اگر پرنسپل کیس ثابت نہ کرسکے تو یہ بھی کچھ نہیں ہوگا، آپ کی دستاویزات اب کہتی ہیں مالک مریم نواز تھیں، مریم نواز تو پبلک آفس ہولڈر نہیں تھیں ان پر اثاثوں کا کیس نہیں بنتا، یہ کوئی الگ ٹیکس کا کیس تو ہوسکتا ہے آمدن سے زائد اثاثوں کا نہیں۔

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ہمارا کیس ہے کہ مریم نواز بطور نوازشریف کی بے نامی ملکیت رکھتی تھیں،اس پر جسٹس فاروق نے کہا کہ ہم آپ کی بات مان لیتے ہیں پھر اس کے شواہد دے دیں۔ سردار عباسی نے کہا کہ مائی لارڈ یہی جو دستاویزات آپ کو دیں یہ ثبوت ہی ہیں ناں۔

عدالت نے کہا کہ بینفشل اونر یا شئیر ہولڈر مریم اس میں کب آئیں؟ اس حوالے سے کوئی ڈاکومنٹ نہیں، کیا مریم نواز آج بینفشل اونر ہیں؟ اس پر سردار عباسی نے کہا کہ جی بالکل! مریم نواز آج بھی ہیں، برطانیہ کے محکمہ داخلہ کا لیٹر ریکارڈ پر موجود ہے، لیٹر کے مطابق مریم نواز ہی بینیفشل مالک ہیں، مریم نواز کے اپنے ذرائع آمدن نہیں تھے، کمپنیوں کی ان کارپوریشن کے دستاویزات بھی دکھا دیئے ہیں۔

عدالت نے پوچھا کہ اب اُس لیٹر کو درست بھی مان لیں تو کیا ثبوت ہے وہ آج بھی بینیفشل مالک ہیں؟ ان سارے ملزمان کو تو کچھ بھی نہیں کہنا تھا نیب نے یہ کیس ثابت کرنا تھا اور  نیب اپنے کیس کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے، الزام عائد کرنا آسان ہے لیکن آپ کو عدالت کے سامنے ثابت کرنا ہوتا ہے۔

سردار مظفر عباسی نے کہا کہ میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ نیلسن اور نیسکول کمپنیاں کب بنیں، پھر بتایا کہ ان کمپنیوں نے یہ پراپرٹیز کب خریدیں، انہوں نے انکار کیا کہ یہ پراپرٹیز 1993ء سے ان کے پاس ہیں، کمپنیز نے اس عرصے میں ضرور پراپرٹیز خریدیں، مگر وہ کہتے ہیں کہ 2006ء میں قطری فیملی سے سیٹلمنٹ کے بعد ان کے پاس آئیں، کیپٹین صفدر یہ نہیں کہہ رہا کہ ڈاکیومنٹ کب بنا وہ کہہ رہا ہے مریم کے دستخط ہیں ، اس بنیاد پر آپ کیسے کسی کو سزا دے سکتے ہیں؟ اگر تفتیش میں کوئی جواب نہیں دیتا تو پھر بھی الزام آپ کو ہی ثابت کرنا ہے۔

یہ پڑھیں : ایون فیلڈ ریفرنس؛ نیب مریم نواز سے قبل نواز شریف پر جرم ثابت کرے، اسلام آباد ہائی کورٹ

عدالت نے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثوں میں نواز شریف اور مریم نواز کا تعلق ثابت نہیں ہو رہا، نیب عدالت کو مطئمن کرنے میں ناکام رہا۔

بعد ازاں عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ کچھ دیر بعد جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے فیصلہ سنایا اس دوران مریم نواز کو روسٹرم پر بلالیا گیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی چار سال کے بعد اپیلیں منظور کرتے ہوئے انہیں بری کرنے کا حکم دے یا اور مریم نواز کو سنائی گئی 7 سال کی سزا کالعدم قرار دے دی۔ اس کے ساتھ ہی مریم نواز کی نااہلی بھی ختم ہوگئی۔

فیصلہ سنتے ہی مریم نواز نے والد نواز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور انہیں مبارک باد دی۔ فیصلے پر عدالت کے باہر ن لیگی کارکنوں نے خوشی سے نعرے بازی کی۔

یاد رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں متعدد سماعتوں کے بعد جولائی 2018ء میں  سابق وزیراعظم نواز شریف کو 11 سال قید کی سزا سناتے ہوئے ان پر 80 لاکھ برطانوی پاؤنڈ جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

عدالت نے اس ریفرنس میں مریم نواز کو سات سال قید کی سزا سناتے ہوئے 20 لاکھ برٹش پاؤنڈ جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔ اسی طرح کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم عدالت نے مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کا مقدمہ نواز شریف کے مقدمے سے علیحدہ کردیا تھا۔

The post ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور صفدر کی سزائیں کالعدم قرار، نااہلی بھی ختم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/BiEWD2J

گھریلو صارفین کو کھانا پکانے کے اوقات میں گیس کی بلاتعطل فراہمی کا حکم

 اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے گھریلو صارفین کو کھانا پکانے کے اوقات میں گیس کی بلاتعطل فراہمی کا حکم جاری کردیا اور کہا ہے کہ عمران حکومت نے سستی گیس نہ خرید کر قوم پر بڑا ظلم کیا۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے موسم سرما میں گیس کی صورتحال پر پیشگی لائحہ عمل مرتب کرنے کیلئے طلب کردہ ہنگامی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار، وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک، مشیر احد چیمہ اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔

شرکا کو موسمِ سرما میں متوقع طلب اور رسد پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو حکومت کی موجودہ حکمت عملی اور آئندہ مہینوں میں گیس کی فراہمی کے لیے مرتب کردہ پلان پر بھی بریفنگ دی گئی۔

وزیرِ اعظم نے متعلقہ حکام کو پیش کردہ پلان کو مزید بہتر کرنے اور قلیل و وسط مدتی لائحہ عمل کو ترجیح دینے کی ہدایات جاری کیں۔

شہباز شریف نے موسم سرما میں گیس کی متوقع طلب کے پیش نظر فوری لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایات جاری کردیں اور کہا ہے کہ عمران حکومت نے کووڈ کے دنوں میں عالمی منڈی میں سستی گیس کا فائدہ نہیں اٹھایا اور بروقت گیس نہ خرید کر اس قوم کے ساتھ بہت بڑا ظلم کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ حکومت کے بروقت فیصلے نہ کرنے کا خمیازہ آج پورا ملک بھگت رہا ہے، میں گزشتہ حکومت کی طرح کسی بھی قسم کی بدانتظامی اور مجرمانہ غفلت قبول نہیں کروں گا، معیشت میں بارودی سرنگوں بچھانے والوں نے ملک کے ہر شعبے پر خود کش حملے کرکے غریب کی کمر توڑ دی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ گھریلو صارفین کو کھانا پکانے کے اوقات میں گیس کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔

The post گھریلو صارفین کو کھانا پکانے کے اوقات میں گیس کی بلاتعطل فراہمی کا حکم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/O7vyQru

آٹھ ارب سے زائد مشکوک ٹرانزیکشن کا معاملہ؛آصف زرداری کی بریت کی اپیل واپس لینے کی درخواست

 اسلام آباد: اسلام آباد ہائیوکرٹ میں آٹھ ارب سے زائد مشکوک ٹرانزیکشن کے معاملے پر سابق صدر آصف زرداری نے بریتت کی اپیل واپس لینے کی درخواست دائر کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں آٹھ ارب سے زائد کی مشکوک ٹرانزیکشن کے نیب کی بریت واپس لینے کیلئے درخواست دائر کردی۔

آصف زرداری کی درخواست بریت گزشتہ سال نیب کورٹ نے مسترد کی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کی کارروائی پر حکم امتناع جاری کیا تھا۔

آصف زرداری نے عدالت سے استدعا کی کہ درخواست واپس لینی کی اجازت دی جائے، درخواست میں کہا ہے کہ احتساب عدالت کی کارروائی پر حکم امتناع بھی ختم کیا جائے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف زردای احتساب عدالت سے نئے قانون کے تحت ریلیف کیلئے درخواست دیں گے اور نئی درخواست دینے کیلئے ہائیکورٹ کا حکم امتناع ختم کرانا لازم تھا۔

The post آٹھ ارب سے زائد مشکوک ٹرانزیکشن کا معاملہ؛آصف زرداری کی بریت کی اپیل واپس لینے کی درخواست appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/4otqBCs

سردیوں میں گیس کا بحران شدید ہونے کی توقع

 اسلام آباد:  موسم سرما سر پر ہے، ایل این جی اور ایل پی جی کی عدم دستیابی کی وجہ سے عوام کے لیے گیس کا بحران سردیوں میں شدید ہوسکتا ہے۔

سابقہ حکومتیں گیس کے بحران سے بچنے کے لیے سردیوں میں ایل این جی کو ترجیح دیتی رہی ہیں تاہم موجودہ حکومت نے سردیوں میں صارفین کو ایل این جی کی فراہمی کے لیے کوئی انتظامات نہیں کرسکی۔ پاکستان ایل این جی لمیٹڈ ( پی ایل ایل ) نے ایل این جی کی درآمد کے لیے ٹینڈر ضرور جاری کیے تھے مگر ابھی تک ایل این جی کارگو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

حال ہی میں پی ایل ایل نے 6سال سے کم کی مدت کے لیے 12 ایل این جی کارگوز کا انتظام کرنے کے لیے ٹینڈر جاری کیے تھے۔ تاہم اب بولی دہندگان کی تعداد بڑھانے کے لیے بولی کی تاریخ میں توسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پی ایل ایل آئندہ ماہ بولی کھولے گی۔ پی جی پی سی ٹرمینل ماہانہ 2ایل این جی کارگوز ڈیل کررہا ہے جب کہ اس کی گنجائش 6ایل این جی کارگوز کے مساوی ہے۔ علاوہ ازیں نجی کمپنیوں کو بھی پی جی پی سی ایل این جی ٹرمینل کی بقیہ گنجائش کے استعمال میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

سابقہ حکومت نے بھی اس سلسلے میں کوششیں کی تھیں مگر ایک لابی نے ایل این جی ٹرمینل کی اضافی گنجائش مختص کرنے کا منصوبہ ناکام بنادیا تھا۔ موجودہ حکومت پی جی پی سی ایل این جی ٹرمینل کی زائد گنجائش نجی شعبے کیلیے مختص کرنے کے سلسلے میں سنجیدہ کوششیں نہیں کررہی۔

The post سردیوں میں گیس کا بحران شدید ہونے کی توقع appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/KyxTW0Q

سرکاری افسر کے گھرمیں کروڑوں کی رقم اورزیورکی ڈکیتی

 کراچی:  شاہ لطیف ٹاؤن کے علاقے میں اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر کے گھر سے ڈاکوؤں نے نقدی اورپرائز بانڈز سمیت ایک کروڑ 70 لاکھ کے طلائی زیورات اور قیمتی سامان لوٹ لیا

تفصیلات کے مطابق شاہ لطیف ٹاؤن کے علاقے سندھی جماعت کوآپریٹو ہاوسنگ سوسائٹی کے رہائشی اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر سکندر علی کے گھرپر2 ڈاکوؤں نے دھاوا بول کر انھیں اور پوری خاندان کو ایک کمرے میں بند کرکے الماری میں رکھی ہوئی نقدی ، طلائی زیورات ، انعامی بانڈز اور دیگر سامان لوٹ لیا ،سکندر علی نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ ڈاکو گھر سے تقریبا ایک کروڑ 70 لاکھ روپے کا سامان لوٹ کر لے گئے۔

رات بارہ بجے کے درمیان اپنی گاڑی کو گھر کے اندر لانے کے لیے دروازہ کھولا اس دوران 2 ڈاکوؤں نے مجھے یرغمال بنالیا اور میرے ماتھے پرپسٹل رکھ دی میں نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے کہا ہم تھمیں جاں سے مار دیں گے وہ مجھے یرغمال بناکر گھر کے اندر لے جاکر فیملی سمیت ایک کمرے میں بند کردیا۔

اس کے بعد ڈاکوؤں نے الماری کا تالا توڑ کر سارا سامان لوٹ لیا، سکندر علی نے مزید بتایا کہ ڈاکوشلوار قمیص پہنے ہوئے تھے ایک اندازے کے مطابق ان کی عمریں 40 سے 45 سال کے درمیان معلوم ہوتی ہے شاہ لطیف ٹاؤن پولیس نے واقعے کا مقدمہ سکندر علی کی مدعیت میں 2 نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرلیا۔

ایس ایچ او شاہ لطیف ٹاون چوہدری اسلم کے مطابق سوسائٹی کے اندر اور باہر کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے جائزہ لے رہے ہیں کہ ملزمان سوسائٹی میں کس راستے سے داخل ہوئے اور ان کی تعداد کتنی تھی ایس ایچ او نے مزید بتایا لوکیشن کی مدد سے معلوم ہوا کہ گھر سے غائب ہونے والے 3 اسمارٹ فون گھر میں ہی موجود ہے اور انھیں گھر سے برآمد کرلیے گئے اور ان کے نمبرز کو بھی چیک کیا جارہا ہے واقعے کی ہر زاویے سے تفتیش کررہے ہیں ۔

ایس ایچ او کا کہنا ہے یہ بھی معلومات حاصل کی جارہی ہے کہ سکندر علی نے اتنی بڑی رقم گھر میں رکھی ہوئی تھی اور اس کے بارے میں کس کس کو معلوم تھا ملزمان نے اسی گھر کا تعین کیوں کیا۔

The post سرکاری افسر کے گھرمیں کروڑوں کی رقم اورزیورکی ڈکیتی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/HtxZoDu

Wednesday, 28 September 2022

عمران خان کو قوم کا مزید نقصان نہیں کرنے دیں گے، وزیر داخلہ

 اسلام آباد: وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ عمران خان کو قوم کا مزید نقصان نہیں کرنے دیں گے۔

رانا ثناء اللّٰہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان غیر ملکی ایجنڈے پر ہے، اس کی آڈیو لیک سے چیزیں واضح ہو گئی ہیں، عمران خان کا قومی مفادات کے ساتھ گند باہر آچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان احمق اور فتنہ گر ہے اس کو قوم کا مزید نقصان نہیں کرنے دیں گے، اگر فتنے اور فساد کو نہ روکا گیاتو یہ ملک کو بڑے سانحے سے دوچار کرے گا، عمران خان کی حکومت آئینی طریقہ کار سے ہٹایا گیا ہے، اس نے ملک کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے۔

راناثنااللہ نے کہا کہ وزیراعظم اور سیکرٹری کی آڈیو لیک ہوئی ہے اس کی اپنی اہمیت ہے اور اس میں جو مواد ہے اس کی الگ اہمیت ہے، جس نے ریکارڈنگ غیر قانونی طور پر کی ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، مگر ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی قومی مفاد کے خلاف بات کرے ریکارڈ پر آجائے تو کہے کہ میرے خلاف کارروائی نہ کی جائے۔

The post عمران خان کو قوم کا مزید نقصان نہیں کرنے دیں گے، وزیر داخلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/pmE6Q3A

سپریم کورٹ؛ جامعہ کراچی کی ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف درخواست مسترد

 کراچی: سپریم کورٹ نے جامعہ کراچی کی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست کو مسترد کرتے ہوئے فیصلے پر 30 یوم میں عمل درآمد کا حکم دیا ہے۔ 

ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی گئی آئینی پٹیشن 4597/2019 کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کی گئی جامعہ کراچی کی درخواست مسترد کردی گئی۔

اسلام آباد رجسٹری میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سید مظہر علی اکبر نقوی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے جامعہ کراچی کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کی۔

یہ خبر پڑھیں : ہائی کورٹ کا جامعہ کراچی کے رجسٹرار کو اگلی سماعت پر پیش ہونے کا حکم 

جامعہ کراچی کے وکلا نے یونیورسٹی ‘سنیڈیکیٹ” نامکمل ہونے کا جواز پیش کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد روکنے کی استدعا کی۔

معزز عدالت نے جامعہ کراچی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کے 13 مئی 2022 کو سنائے گئے فیصلے پر 30 یوم میں عمل درآمد کا حکم دیدیا۔ جس کے تحت اس مدت کے دوران سینڈیکیٹ مکمل کرکے اجلاس کا انعقاد کرنا ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں : جامعہ کراچی کی وائس چانسلر اور رجسٹرار کو توہین عدالت کا نوٹس 

واضح رہے اسی پٹیشن پر عمل درآمد کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں پہلے ہی توہین عدالت کی درخواست پر رجسٹرار جامعہ کراچی کو 7 اکتوبرکو طلب کر رکھا ہے۔

 

The post سپریم کورٹ؛ جامعہ کراچی کی ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف درخواست مسترد appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/q3bQpgm

بٹ خیلہ میں فائرنگ سے تین افراد ہلاک

 پشاور: خیبرپختونخوا میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے تین افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں ایک مرتبہ پھر نامعلوم وجوہات کی بناء تین افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔

لیویز ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ مٹکنی طوطہ کان کے علاقے میں پیش آیا، جس کے بعد ملزمان جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

ریسکیو اہلکاروں نے مقتولین کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے بٹ خیلہ اسپتال منتقل کردی، جہاں مقتولین کی شناخت اختر علی سکنہ پیران، شاہ مراد سکنہ مٹکنی اور انس خان سکنہ طوطہ کان کے نام سے ہوئی ہے۔

لیوی ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کی رپورٹ لیویز پوسٹ قلنگی میں درج میں ہوگئی جس کے بعد سیکیورٹی اداروں نے تفتیش  جاری شروع کردی۔

The post بٹ خیلہ میں فائرنگ سے تین افراد ہلاک appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/lv4Cq0i

اسحاق ڈار نے وزیرخزانہ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

 اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسحاق ڈار نے وفاقی وزیرخزانہ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔

اسحاق ڈار کی تقریب حلف برداری ایوان صدر میں ہوئی۔ صدر مملکت عارف علوی نے اسحاق ڈار سے وزیرخزانہ کے عہدے کا حلف لیا۔

مزید پڑھیں: اسحاق ڈار نے سینیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھالیا

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اسحاق ڈار کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی۔ اسحاق ڈارنے گزشتہ روز سینیٹر کا حلف اٹھایا تھا اور وہ دو روز قبل  وزیراعظم کے ہمراہ لندن سے پاکستان واپس پہنچے تھے۔اسحاق ڈار پانچ سال سے لندن میں مقیم تھے۔

The post اسحاق ڈار نے وزیرخزانہ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/5xFJkRS

Tuesday, 27 September 2022

انٹربورڈ کراچی: امتحانی پرچوں کی مشین سے چیکنگ کا منصوبہ بری طرح سے ناکام

 کراچی: اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے تحت انٹرمیڈیٹ کے امتحانی نتائج کی تیاری کے سلسلے میں ’’مشین کوڈیفیکیش‘‘ کا منصوبہ ناکام ہوگیا ہے۔

بورڈ انتظامیہ انٹر سال دوئم کی امتحانی کاپیوں کی مشین کے ذریعے کوڈیفیکیش کرانے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے اور انٹر سال دوئم (پری انجینیئرنگ اور پری میڈیکل) کی لاکھوں امتحانی کاپیوں کی جانچ سے قبل ماضی کی طرح دستی (مینوول) کوڈیفیکیش ہی کرالی گئی ہے۔

ہاتھ سے کی گئی( مینوول) کوڈیفیکیش کے بعد امتحانی کاپیاں جانچ کے لیے اساتذہ کے حوالے کی گئی ہیں جس کے سبب جدت کے دعوے دھرے رہ گئے ہیں۔ یاد رہے کہ اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے 1 کروڑ روپے سے زائد رقم سے 2 کوڈیفیکیش مشینیں خریدی تھیں جبکہ امتحانی کاپیوں کی جانچ کے لیے “او ایم آر” ( آپٹیکل مارک ریڈنگ) کے تحت کمپیوٹرائز اسکینگ /چیکنگ مشینیں بھی خریدی گئی تھیں۔

اس خریداری کے بعد چیئرمین بورڈ پروفیسر سعید الدین نے امتحانات کے سلسلے میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں اس منصوبے کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ اس سال 2022 کی امتحانی کاپیوں کی کوڈیفیکیش انھی مشینوں کے ذریعے کرائی جائے گی۔

ادھر ایکسپریس نے کوڈیفیکیش مشین کے عدم استعمال اور دستی کوڈیفیکیش کے معاملے پر چیئرمین بورڈ پروفیسر سعید الدین سے کئی بار رابطے کی کوشش کی تاہم انہوں نے فون نہیں اٹھایا ان کے پی ایس عارف منور کو فون کیا تو بتایا گیا کہ صاحب ابھی کالج اساتذہ کے ساتھ میٹنگ میں ہیں لہذا جس معاملے پر بھی بات کرنی ہے ان کے موبائل فون پر میسج کردیں۔

علاوہ ازیں موبائل فون پر میسج کرکے چیئرمین بورڈ سے اس معاملے کی وجہ دریافت کی تو انھوں نے معاملے پر بات کرنے سے گریز کیا اور جوابی پیغام میں چیئرمین بورڈ نے موقف اختیار کیا کہ “امتحانات کنٹرولر کا domain ہے ان سے بات کی جائے۔

یاد رہے کہ سال 2022 کے گزشتہ 2 ماہ تک جاری امتحانات اور اس کی تیاریوں کے سلسلے کی پریس کانفرنس خود چیئرمین بورڈ نے ہی کی تھی اور امتحانات کے انعقاد اور تیاریوں سے متعلق بریفنگ دی تھی۔

ادھر بتایا جارہا ہے کہ حیدر آباد کے جس وینڈر سے کوڈیفیکیش مشین خریدی گئی ہے۔ اب کہا جارہا ہے کہ یہ مشینیں واپس لے لی جائیں کیونکہ ان کی کارکردگی بہتر نہیں ہے جبکہ ذرائع بتاتے ہیں کہ خود بورڈ کے پاس اس سلسلے میں تربیت یافتہ عملہ فی الحال موجود نہیں جو مشین کوڈیفیکیش کرسکے۔

ذرائع کہتے ہیں کہ بورڈ انتظامیہ سے وہ افراد مسلسل دستی کوڈیفیکیش پر اصرار کررہے تھے جو گزشتہ برسوں میں یہ کام کرتے آرہے ہیں کوڈیفیکیش کہ مد میں انھیں فی کاپی 2 روپے کے حساب سے ادائیگی کی جاتی ہے اور محتاط اندازے کے مطابق انٹرمیڈیٹ بورڈ کی امتحانی کاپیوں کی تعداد 22 لاکھ سے زائد ہوتی ہے جس میں انٹر سال اول و دوئم کی تمام فیکلٹیز کی امتحانی کاپیاں شامل ہوتی ہیں۔

علاوہ ازیں سندھ پروفیسر اینڈ لیکچرر ایسوسی ایشن (سپلا) کراچی ریجن کے صدر پروفیسر کریم ناریجو سے جب ’ایکسپریس‘ نے اس سلسلے میں اساتذہ کی رائے جاننے کے لیے ان سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے جلد بازی میں انٹر بورڈ نے ’’او ایم آر‘‘ متعارف کرایا، طلبہ اور اساتذہ کی اس سلسلے میں تربیت نہیں تھی جس کے سبب ہم نے امتحان لیے تو معلوم ہوا کہ طلبہ ایم سی کیوز کرنے میں غلطیاں کررہے ہیں جس پر انٹر بورڈ نے کہا کہ او ایم آر سیٹ کی مینوول اسسمنٹ بھی کرائیں گے لیکن نہیں کرائی۔

انہوں نے کہا کہ قومی خزانے کو نقصان پہنچا کر مشینیں خریدی گئیں لیکن مینوول کوڈیفیکیش کرادی گئی ، جو لوگ کوڈیفیکیش کرتے ہیں وہی اسسمنٹ اور پھر ٹیبولیشن بھی کرتے ہیں۔ اس سے سیکریسی اور ٹرانسپیرنسی نہیں ہوپاتی جو لوگ 10 سال پہلے ریٹائر ہوئے ہیں وہی آج تک کوڈیفیکیش کررہے ہیں جبکہ مشینیں خرید کر رکھ دی گئی ہیں جبکہ دوسری جانب متعلقہ ڈپارٹمنٹ سے پیسے مانگتے ہیں کہ بورڈ کے اخراجات پورے نہیں ہوتے۔

The post انٹربورڈ کراچی: امتحانی پرچوں کی مشین سے چیکنگ کا منصوبہ بری طرح سے ناکام appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/WB27Y3d

انٹرنیشنل بارڈر فورس کی کارروائی،85ملین ڈالر مالیت کی ہیروئن ضبط

عمان: کمبائنڈ میری ٹائم فورس نے عمان کے ساحل کے قریب کارروائی کرتے ہوئے ماہی گیروں کے جہاز سے 85ملین ڈالر مالیت کی ہیروئن ضبط کر لی ہے۔

امریکی بحریہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق انٹرنینشل بارڈ پر ہونے والی یہ اس سال کی سی سب سے بڑی کارروائی ہے جس کے دوران 24سو کلوسے زائد وزن کی ہیروئن ضبط کی گئی۔

ترجمان کےمطابق 27 ستمبر کو ہونے والی کارروائی میں امریکی نیول میرین سمیت سعودی فورس نے بھی حصہ لیا۔

تاہم بیان میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کے ماہی گیروں کا جہاز کہاں  سے آرہا تھا اور اسے کہاں جانا تھا۔

34ممالک پر مبنی فورس کا مقصد ریڈ سی، گلف، بحیرہ عرب، بحر ہند اور عمان سمیت ناردرن عریبین سی کے رستے ہونے والی غیرقانونی سرگرمیوں کو کنٹرول کرنا ہے۔

 

 

The post انٹرنیشنل بارڈر فورس کی کارروائی،85ملین ڈالر مالیت کی ہیروئن ضبط appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/HcsBEXr

سی ٹی ڈی کی کارروائی کے دوران چار مبینہ دہشت گرد ہلاک

 اسلام آباد: ہزار گنجی میں سی ٹی ڈی کی کارروائی کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں چار دہشت گرد ہلاک ہوگئے، ملزمان منشیات کا ٹرک کراچی لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق انہیں خفیہ اطلاع ملی تھی کہ کالعدم تنظیم کے دہشت گرد گلستان سے بھاری مقدار میں منشیات ٹرک کے ذریعے کراچی لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں، سی ٹی ڈی ٹیم نے ہزار گنجی کے علاقے گلزار آباد کے قریب ناکہ بندی کر کے ریکی شروع کی۔

اس دوران ایک ٹرک کو روکنے کا اشارہ کیا گیا تو ٹرک میں سوار مسلح افراد نے ٹیم پر فائرنگ کرتے ہوئے پہاڑ کی جانب فرار ہونے کی کوشش کی، سی ٹی ڈی کی جوابی فائرنگ میں چار دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

حکام کے مطابق ٹرک سے 27 کلو گرام ہیروئن برآمد ہوئی جس کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جاتی ہے۔ مارے جانے والے دہشت گرد منشیات فروخت کرکے فنڈز کالعدم تنظیموں کو دیتے تھے۔

The post سی ٹی ڈی کی کارروائی کے دوران چار مبینہ دہشت گرد ہلاک appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/n4idm5c

’اڈیالہ جیل کو حراستی کیمپ بنادیا گیا‘ اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحقیقات کا حکم دیدیا

 اسلام آباد: ہائی کورٹ نے اڈیالہ جیل کو حراستی کیمپ سے تشبیہ دیتے ہوئے تحقیقات کرنے کا حکم دے دیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قیدیوں پر تشدد اور غیر انسانی سلوک کے معاملے کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے ریمارکس دیے کہ قیدی کی جانب سے دائر درخواست میں لگائے گئے الزامات بادی النظر میں بے بنیاد نہیں ہیں۔ خفیہ رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل کو قانون کے مطابق چلانے کے بجائے حراستی کیمپ بنا دیا گیا ہے۔

عدالت نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں قیدیوں سے غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوتی ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ عدالت قومی انسانی حقوق کمیشن کو اڈیالہ جیل میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کی تحقیقات کا حکم دیتی ہے۔ قومی انسانی حقوق کمیشن کے ارکان پنجاب تحقیقاتی رپورٹ جلد سے جلد اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائیں۔

The post ’اڈیالہ جیل کو حراستی کیمپ بنادیا گیا‘ اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحقیقات کا حکم دیدیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/ZfbnpKO

Monday, 26 September 2022

لاہور؛ شوہر نے بیوی  کو قتل کرکے اپنے گلے پر چھری پھیر لی

 لاہور: ہربنس پورہ کے علاقے کنال بینک روڈ پر میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوگیا، جس میں شوہر نے اہلیہ کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کی کوشش کی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق 35 سالہ غلام شبیر نے طیش میں آکر اپنی 30 سالہ بیوی کے سر میں فائر کرکے قتل کردیا۔  ایدھی ترجمان کا کہنا ہے کہ بیوی کو قتل کرنے کے بعد شوہر نے اپنے گلے پر چھری پھیر کر خودکشی کی کوشش کی، تاہم اسے حراست میں لے کر زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

شوہر کے ہاتھوں قتل ہونے والی خاتون کی شناخت منظوراں کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس اطلاع ملتے ہی جائے وقوع پر پہنچی جب کہ فرانزک ٹیم نے شواہد اکٹھے کرلیے۔ ضروری قانونی کارروائی کے بعد لاش کو ایدھی رضاکاروں کے ذریعے مردہ خانے منتقل کردیا کردیا گیا۔

پولیس نے مقتولہ کی بہن پروین بی بی کی مدعیت میں غلام شبیر کے خلاف مقدمہ درج کرکے واقعے کی مزید تفتیش شروع کردی ہے۔

The post لاہور؛ شوہر نے بیوی  کو قتل کرکے اپنے گلے پر چھری پھیر لی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/eT4b9vE

کورونا کے مزید 39  مثبت کیسز رپورٹ، 80 مریضوں کی حالت نازک

 اسلام آباد: ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مزید 39 مثبت  کیسز رپورٹ ہوئے ، جب کہ 80 مریضوں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

 

قومی ادارۂ صحت (این آئی ایچ ) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر 8 ہزار 634 افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے 39  افراد کے کورونا ٹیسٹ کے نتائج مثبت ریکارڈ ہوئے۔

این آئی ایچ کی جانب سے جاری اعداد شمار کے مطابق  80 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے جب کہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا مثبت کیسز کی شرح معمولی کمی کے ساتھ 0.45  فی صد ریکارڈ کی گئی۔ اس دوران عالمی وبا کے باعث کوئی ہلاکت بھی رپورٹ نہیں ہوئی۔

The post کورونا کے مزید 39  مثبت کیسز رپورٹ، 80 مریضوں کی حالت نازک appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/YKUw3iy

امانت میں خیانت کے مقدمے میں جمشید دستی گرفتار

سابق ممبر قومی اسمبلی جمشید دستی کو گرفتار کرلیا جمشید دستی مظفر گڑھ کے تھانہ محمود کوٹ کو امانت میں خیانت کے مقدمے میں مطلوب و اشتہاری ملزم تھے جنہیں مظفر گڑھ پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔ 

تفصیلات کے مطابق 2008 سے 2018 کے درمیان مختلف ادوار میں ممبر قومی اسمبلی رہنے والے جمشیددستی کے حوالے سے بتایا گیا ہے ان کے خلاف آل پاکستان آئل ٹینکر ایسوی ایشن کے جنرل سیکرٹری محمد ظریف نے 2109 میں مظفرگڑھ کے تھانہ محمود کوٹ میں مقدمہ درج کرایا۔

یونین نے فنڈ اکھٹا کرکے جمشید دستی کے پاس کےپی اے فاروق کو جمع کرایا جس پر جمشید دستی نے کراچی سے 38 لاکھ روپے کے فنڈز سے حادثات کا شکار ہونے والے آئیل ٹینکرز کے ڈرائیورز و عملےکو ریسکیو کرنے کی خاطر ایمبولینس خرید کر لائی لیکن جمشید دستی بعد میں ایمبولنیس کو آکسیجن سلینڈر اور مریض کے لیے بیڈ نصب کرانے کے لیے لے گئے اورامانت میں خیانت کرکے خرد برد کرلی۔

جس پر جمشید دستی اور ان کے پی اے فاروق اعوان کے خلاف امانت میں خیانت کے جرم میں مقدمہ درج ہوا اور اسی مقدمے مل میں جمشید دستی اشتہاری ڈیکلیئر کردیے گئے۔

دستی اپنے سٹاف کے ساتھ فیض آباد کے مقامی ہوٹل میں رہاہش کے لیے پہنچے تو نیوٹاون پولیس نے جمشید دستی کو گرفتار کرلیا۔

The post امانت میں خیانت کے مقدمے میں جمشید دستی گرفتار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/ZrAK40o

12 ربیع الاول 9 اکتوبر کو ہونے کا امکان

 لاہور: رویت ہلال ریسرچ کونسل نے یکم ربیع الاول 28 ستمبر جبکہ 12 ربیع الاول 9 اکتوبر کو ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

ربیع الاول کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی اور زونل رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس آج ہوں گے۔ چاند کی شرعی رویت کا اعلان چیئرمین مولانا سید عبدالخبیر آزاد کریں گے۔

رویت ہلال ریسرچ کونسل نے یکم ربیع الاول 28 ستمبر 2022 جبکہ 12 ربیع الاول 9 اکتوبر اتوار کو ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

رویت ہلال ریسرچ کونسل کے مطابق نیا چاند 26 ستمبر 2022ء کو پاکستانی وقت کے مطابق رات 2 بج کر 54 منٹ پر پیدا ہو چُکا ہے۔  آج بروز پیر 29 صفر المظفر 26 ستمبر 2022ء کی شام غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر پاکستان کے تمام علاقوں میں 16 گھنٹوں سے بھی کم ہو گی جبکہ غروبِ شمس اور غروبِ قمر کے درمیان فرق 30 منٹوں سے بھی کم ہو گا۔

کونسل کے مطابق پاکستان کے تمام علاقوں میں مطلع انتہائی صاف ہوا تو بھی ننگی آنکھ تو کجا، ٹیلی اسکوپ سے بھی رویتِ ہلال کا بالکل کوئی امکان نہیں لہٰذا 27 ستمبر کو 30 صفر المظفر اور 28 ستمبر کو یکم ربیع الاول ہو گی۔ اس طرح 12 ربیع الاول اتوار 9 اکتوبر کو ہو گی۔

The post 12 ربیع الاول 9 اکتوبر کو ہونے کا امکان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/py0WeC7

مردان میں مسجد میں دوران نماز فائرنگ، حساس ادارے کا افسر جاں بحق

مردان: دوسرہ چوک کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے مسجد زرگران میں عشا کی نماز کے دوران فائرنگ کرکے حساس ادارے کے سب انسپکٹر کو قتل کردیا گیا۔

واقعہ گزشتہ شب مردان میں پیش آیا۔ 2 نامعلوم افراد نے نماز عشاء کی اداٸیگی  کے دوران انٹیلی جنس بیورو (آٸی بی) کے سب انسپکٹر کفایت اللہ پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگئے جب کہ دو نمازی شدید زخمی ہوگئے۔

مقتول کو مردان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔ حملہ آور فائرنگ کرکے فرار ہوگئے ۔

پولیس اور حساس اداروں نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ آٸی بی سب انسپکٹر کفایت اللہ کی نماز جنازہ آج صبح پولیس لاٸن مردان میں ادا کی گئی۔

The post مردان میں مسجد میں دوران نماز فائرنگ، حساس ادارے کا افسر جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/8khIKCD

Sunday, 25 September 2022

پاک فوج کا ہیلی کاپٹر بلوچستان میں گرکرتباہ،2 میجرز سمیت 6 اہلکار شہید

 راولپنڈی: بلوچستان میں پاک فوج کا ہیلی کاپٹر گرکرتباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں 2 میجرز سمیت 6 اہلکار شہید ہوگئے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاک فوج کا ایک ہیلی کاپٹربلوچستان کے علاقے ہرنائی میں گرکرتباہ ہوگیا۔ ہیلی کاپٹر حادثے میں 2 پائلٹس سمیت 6 اہلکار شہید ہوگئے۔

پاک فوج کا ہیلی کاپٹر گزشتہ رات فلائنگ مشن کے دوران گر کر تباہ ہوا۔حادثے میں شہید ہونے والوں میں میجر محمد منیب افضل، میجر خرم شہزاد، نائیک جلیل،صوبیدار عبدالواحد، سپاہی محمد عمران اور سپاہی شعیب شامل ہیں۔

The post پاک فوج کا ہیلی کاپٹر بلوچستان میں گرکرتباہ،2 میجرز سمیت 6 اہلکار شہید appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/ZxI6OCX

کراچی؛ شہریوں کے ہاتھوں تشدد کے شکار 2 ڈاکو دوران علاج دم توڑ گئے

 کراچی: شہر قائد کے علاقے بفرزون میں 2 ڈاکو شہریوں کے ہاتھ لگ گئے، جنہیں مشتعل افراد نے تشدد کا نشانہ بنا کر شدید زخمی کر دیا جو اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گئے ۔

دونوں ڈاکوؤں کو تیموریہ تھانے کے علاقے سیکٹر 15 اے 4 نائس بیکری کے قریب ہفتے کے روز شہریوں نے لوٹ مار کرتے ہوئے قابو کرلیا تھا اور بعد ازاں تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر ڈاکوؤں کو بہ مشکل شہریوں کے چنگل سے چھڑا کر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا تھا، جو بعد میں دوران علاج جانبر نہ ہو سکے۔

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے ڈاکوؤں کا بائیو میٹرک کروایا لیا گیا ہے، جس کے بعد ملزمان کی شناخت اور کرائم ریکارڈ سامنے آسکے گا ۔ ہلاک ہونے والے ڈاکوؤں سے برآمد اسلحہ میں میگزین نہیں تھا، تاہم فوری طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ میگزین پستول سے نکل کر کہیں گر گیا یا کسی نے نکال لیا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔

The post کراچی؛ شہریوں کے ہاتھوں تشدد کے شکار 2 ڈاکو دوران علاج دم توڑ گئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/UEmRs9O

ملک میں کورونا کے مزید 55کیسز رپورٹ، 73 مریضوں کی حالت تشویشناک

 اسلام آباد: ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مزید 55 کیسز رپورٹ ہوئے ، جب کہ 73 مریضوں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

 

قومی ادارۂ صحت (این آئی ایچ ) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر 11 ہزار 65 افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے 55  افراد کے کورونا ٹیسٹ کے نتائج مثبت ریکارڈ ہوئے۔

این آئی ایچ کی جانب سے جاری اعداد شمار کے مطابق  73 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے جب کہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا مثبت کیسز کی شرح معمولی اضافے کے ساتھ 0.50  فی صد ریکارڈ کی گئی۔ اس دوران عالمی وبا کے باعث کوئی ہلاکت بھی رپورٹ نہیں ہوئی۔

The post ملک میں کورونا کے مزید 55کیسز رپورٹ، 73 مریضوں کی حالت تشویشناک appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/j5UtCfE

مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی ایک ہی نظام کے محافظ ہیں، سراج الحق

 اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی ایک ہی نظام کے محافظ ہیں۔

سراج الحق نے ایک بیان میں کہا کہ ہمارے حکمران ہر در پر جھکے،سوال کیا،کشکول پھیلائے، لیکن اللہ کے سامنے نہیں جھکتے۔ انہوں نے کہا کہ تینوں سیاسی جماعتیں اسٹیٹس کو اور سودی معیشت پر اکھٹی ہیں۔ مسلم لیگ ن،پیپلز پارٹی،پی ٹی آئی دراصل ایک ہی نظام کے محافظ ہیں۔ ہماری لڑائی فرد یا پارٹی سے نہیں بلکہ اللہ کا نظام نافذ کرنے کی جدو جہد ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرانس جینڈر ایکٹ کوپوری قوم مسترد کرتی ہے ۔ خواجہ سراؤں کو تمام حقوق دیے جائیں۔ جماعت اسلامی ہمیشہ خواجہ سراؤں کے حقوق کی بات کرتی رہی ہے،جو ان کا بحیثیت پاکستانی حق ہے۔ ٹرانس جینڈرز کے حقوق کے لیے موجودہ ایکٹ 2018 میں خامیاں موجود ہیں۔

سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی ٹرانس جینڈرز ایکٹ میں ترامیم لے کر آئی ہے، حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ اسے قبول کرے۔ جماعت اسلامی سمیت ہر مسلمان ختم نبوت کے تحفظ کے لیے ہر وقت بیدار اور تیار ہے۔ ختم نبوت کا تحفظ ہمارے ایمان کا حصہ ہے، جس پر کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

The post مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی ایک ہی نظام کے محافظ ہیں، سراج الحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/EORX5sa

کراچی میں جرائم کی صورت حال تشویشناک نہیں، مرتضیٰ وہاب

 کراچی: ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب اور ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ شہر میں جرائم کی صورتحال تشویشناک نہیں ہے۔

نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے جرائم کے واقعات ہوئے، بعض واقعات کو میڈیا اور سوشل میڈیا کی وجہ سے زیادہ سامنے لایا گیا، چند بڑے واقعات ضرور ہوئے ہیں ۔ شہر میں اسٹریٹ کرائمز سمیت جرائم کے دیگر واقعات کے حوالے ایڈیشنل آئی جی سے رابطے میں رہتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ کرائم کے تناسب کا موازنہ کیا جائے تو اتنی خراب صورتحال نہیں ہے،شہریوں کو ان کے جانوں اور مال کے تحفظ کا احساس دلانے کے لیے پولیس اور نگرانی کے نظام کو بہتر بنایا جانا چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ کراچی چیمبر میں ایڈیشنل آئی جی پولیس جاوید اوڈھو کے بیان کو غلط مفہوم دیا گیا، تاہم ان کو لفظوں کام مناسب چناؤ کرنا چاہیے تھا۔ ماضی کے تلخ تجربات کے باوجود ہمیشہ قومی کرکٹ ٹیم کی جیت چاہتے ہیں، کرکٹ اور سیاست کو ہمیشہ کے لیے الگ کردینا چاہیے، کرکٹ دکھی پاکستانیوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر رہی ہے،ماضی کی نسبت سیکورٹی صورتحال بہت بہتر ہے،اب میچ کے لیے سڑکیں بند نہیں کی جاتیں۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی کا مزید کہنا تھا کہ صدرمملکت سے دور کی رشتہ داری ہے،وہ میرے بزرگ ہیں، ان کا ہمیشہ احترام کیا ہے، نیشنل اسٹیڈیم کو شائقین سے بھرا دیکھ کر خوشی ہوتی ہے ،پی ایس ایل کے کامیاب میچز نے بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے کھولے ہیں، جس کی کامیابی میں سندھ حکومت کا کردار رہا ہے۔

The post کراچی میں جرائم کی صورت حال تشویشناک نہیں، مرتضیٰ وہاب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/lARLtm8

کراچی میں ڈینگی سے رواں سال 32 افراد جاں بحق

شہر قائد میں رواں سال ڈینگی سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 32 ہوگئی۔

محکمہ صحت سندھ کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ڈینگی سے 2 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 257 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کراچی میں رواں ماہ ڈینگی مریضوں کی تعداد 4 ہزار 318 ہوگئی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈینگی سے متاثرہ افراد پانی اور پھلوں کے مشروبات کا استعمال رکھیں جبکہ پپیتے کے پتوں کا عرق بھی استعمال کریں۔

The post کراچی میں ڈینگی سے رواں سال 32 افراد جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/pZvVgM3

Saturday, 24 September 2022

سیاحوں کی مدد اور رہنمائی کیلئے ٹورازم اسکواڈ

دنیا بھر میں قدرتی آفات کا آنا معمول کی بات ہے اور پاکستان بھی اسی دنیا کا حصہ ہے اور ہمارے ہاں بھی قدرتی آفات کا آنا کوئی نئی بات نہیں۔ یہ الگ بحث ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اپنی موثر انتظامی صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے ہوئے قدرتی آفات سے بروقت نمٹنے کی غیر معمولی صلاحیت حاصل کر لی ہے جس کے باؑعث وہاں نقصانات ہمارے مقابلے بہت کم ہوتے ہیں۔

ہمارے ہاں وفاقی و صوبائی حکومتوں کی بدانتظامی اور نااہلی کی وجہ سے آفات کی شدت کئی گنا بڑھ جاتی ہے جس میں لوگ اپنی جانوں تک سے دھو بیٹھتے ہیں۔ اکثر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ درجنوں اور بعض اوقات سینکڑوں اموات کے بعد حکمرانوں کو ہوش آتا ہے، پھر اظہار ہمدردی پر مبنی بیانات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور لواحقین کے لئے لاکھوں روپے کے پیکیج کا اعلان کیا جاتا ہے۔ حکمران عوام سے واہ واہ کرا کے واپس اپنے محلوں میں چلے جاتے ہیں، لواحقین بھی صبر کرلیتے ہیں کہ بس جی اللہ کی مرضی، حکومت نے بہت احساس کیا اور لواحقین کو زر تلافی ادا کر دیا۔

امدادی رقم سے سے مرنے والوں کے پیارے واپس تو نہیں آسکتے مگر حکومت نے سخت ایکشن لیا ہے، ذمہ دار افسران کو معطل کردیا ہے اور لواحقین کی مدد بھی کردی ہے۔ آفات میں کوتاہی برتنے والے معطل ہوکر تنخواہوں کے ساتھ گھر بیٹھ کر مزے کرتے ہیں اور جو طاقتور ہوتے ہیں وہ چند دنوں بعد اور بے وسیلہ افسران چند مہینوں بعد نئی پوسٹنگ لے لیتے ہیں، چند دنوں بعد عوام بھی بھول جاتے ہیں کہ اس ملک پر کوئی آفت بھی آئی تھی۔

7جون 2022ء کو مری میں برف کا طوفان آیا، اس طوفان کی پیشگی اطلاع کے باوجود مقامی انتظامیہ سوئی رہی اور اس نے کوئی حفاظتی اقدامات نہ کئے، درجنوں افراد اپنے خاندانوں کے ساتھ گاڑیوں کے اندر محصور برف کے طوفان میں پھنس گئے، لوگ مدد کیلئے پکارتے رہے مگر کوئی حکومتی ادارہ ان کی مدد کو نہ آیا، رات بھر خون جما دینے والی سردی نے ان کا خون جما دیا جس سے بچوں اور خواتین سمیت 23 افراد جاں بحق ہوگئے۔

صبح جب اس سانحہ کا علم ہوا تو ملک بھر میں افسردگی کی فضا چھا گئی، مرنے والوں کی ویڈیوز دیکھ کر دل دہل جاتا تھا، پھر وہی کچھ ہوا جو حکومتیں کرتی ہیں، اس کی وقت پنجاب میں عثمان بزدار کی سرکار نے تحقیقات کا حکم دیدیا، افسران معطل کردیئے اور مرنے والوں کے لواحقین کو معاوضہ دے کر اس معاملے پر حسب روایت مٹی ڈال دی گئی۔ اس واقعہ کو سابق وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے سنجیدگی سے لیا اور مستقبل میں ایسے واقعات کے تدارک کے لئے خصوصی فورس بنانے کا اعلان کیا۔ اس اعلان کو اخبارات نے شہہ سرخیوں میں شائع کیا اور پھر کسی کو خبر نہیں کہ اس فورس کا کیا بنا۔

چند روز قبل حکومت پنجاب نے اس خصوصی فورس کو لانچ کر دیا ہے جو سب کے لئے خوشگوار حیرت کا باعث ہے۔ اس مقصد کے لئے منعقدہ خصوصی تقریب میں سیکرٹری سیاحت، کلچر اور آثار قدیمہ احسان بھٹہ نے بتایا کہ یہ پہلا پنجاب ٹورازم اسکواڈ 82 ملازمین پر مشتمل ہے جن میں 71 مرد اور 11 خواتین شامل ہیں۔

اسکواڈکو 38 موٹرسائیکلیں بھی دی گئی ہیں جن کو مرد و خواتین اہلکار استعمال کرتے ہوئے کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں فوری طور پر موقع پر پہنچیں گے اور سیاحوں کو فوری ریلیف دیں گے اور اگر ان کو مزید مدد کی ضرورت ہوگی تو وہ مقامی پولیس، انتظامیہ اور بلدیاتی ادارے کو مطلع کرتے ہوئے مزید کمک بھی منگواسکتے ہیں۔

احسان بھٹہ نے بتایا کہ ٹورازم اسکواڈ ترتیب ریسکیو 1122 طرز پر کی گئی ہے، ٹریننگ میں ریسکیو 1122کے ماہرین نے اسکواڈ کو تربیت دی ہے۔ اسکواڈ کی پہلی ترجیح سیاح کی جان بچانا ہوگی، ٹورازم اسکواڈ کو چار ہفتوں کی تربیت دی گئی ہے، اہلکاروں کو فزیکل ٹریننگ ریسکیو ہیڈکوارٹر میں کی گئی جس میں فرسٹ ایڈ سمیت ایمرجنسی صورتحال اے نمٹنے کے لیے مشقیں کروائی گئیں۔

اسکواڈ کی دو ہفتے ہاسپیٹیلیٹی ٹریننگ ٹی ڈی سی پی سے کرائی گئی ہے جس میں ان کی اخلاقیات اور مثبت رویوں پر کام کیا گیا۔ دوران ٹریننگ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر تین اہلکاروں وسیم اکرم، آمنہ اصغر اور محمد صدیق کو سرٹیفکیٹس دیئے گئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب ٹوارزم اسکواڈ کو تین زونز میں صوبے بھر میں تعینات کیا جائے گا۔ اسے سب سے پہلے مری میں تعینات کیا جا رہا ہے، بعد میں اس کا دائرہ وسیع کیا جائے گا اور ان کو دیگر سیاحتی مقامات پر تعینات کیا جائے گا تاکہ سیاحوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیراعلی پنجاب کے سیاحت کے مشیر ایاز خان نیازی نے اسکواڈ سے حلف لیا اور ان میں سرٹیفکیٹیس تقسیم کئے۔

اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ سیاحوں کو خوشگوار ماحول فراہم کرنے کے لیے یہ ایک احسن قدم ثابت ہوگا جو لوگوں کی رہنمائی کے ساتھ ان کے لیے محفوظ سیاحت کو یقینی بنائے گا۔

صوبائی وزیرثقافت و کھیل ملک تیمور کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو بڑی محنت سے سیاحت میں تبدیلی لانے کیلیے تیار کیا گیا ہے اور ہم سب کو امید ہے کہ یہ سب افسران ادارے کا نام روشن کریں گے، مری میں ہرسال لاکھوں کی تعداد میں ملک سمیت دنیا بھر کے سیاح جاتے ہیں مگر مری سانحہ کے بعد وہاں سیاح اب عدم تحفظ کا شکار رہتے ہیں جس پر محکمہ سیاحت نے ایک تاریخی قدم اُٹھایا ہے۔ پاکستان کی سیاحت کی صنعت پر اگر سنجیدگی سے کام کیا جائے تو یہ زرمبادلہ کمانے کی سب سے بڑی صنعت بن سکتی ہے۔

اللہ تعالی نے پاکستان کے شمالی علاقوں کو جن نعمتوں سے قدرتی مناظر سے نوازا ہے اتنا شاید ہی کسی ملک کو نوازا ہو، شمالی علاقہ میں میں اگر سہولیات اور تحفظ دیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ دنیا بھر کے سیاح پاکستان ضرور آئیں، سوشل میڈیا پر اب بھی بہت سی ویڈیو موجود ہیں جن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ یورپی ممالک کے مردوخواتین کی بڑی تعداد ہمارے شمالی علاقہ جات کی سیر کرتی ہے اور خدا کی تخلیقات اور اس کی کی نعمتوں کو دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں، کچھ عرصہ قبل خیبر پختونخوا کی حکومت نے سیاحوں کو تحفظ دینے اور ان کی رہنمائی کے لئے صوبہ میں ٹورازم پولیس متعارف کرائی جس سے سیاحوں کو احساس تحفظ محسوس ہوتا ہے، پنجاب کے محکمہ سیاحت نے پہلا پنجاب ٹورازم اسکواڈ مری میں تعینات کردیا ہے۔

اس حوالے سے ان سے گفتگو ہوئی تو ان کا کہنا ہے کہ ایسے اسکواڈ کی اشد ضرورت تھی جو صرف اور صرف سیاحوں کے لئے ہو اور وہ ان کی سیکورٹی کے ذمہ دار ہوں، پنجاب ٹورازم اسکواڈ کے قیام کا واحد مقصد پنجاب میں سیاحت کو فروغ دینا ہے کیونکہ سیاحت سے اربوں ڈالر کمائے جاسکتے ہیں، سیاحوں کو تحفظ دینے سے پاکستان کا سافٹ امیج دنیا کے سامنے اجاگر ہوگا اور دنیا بھر کے سیاح بلاخوف و خطر پاکستان آئیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاحوں کو احساس تحفظ دلانے کے لئے محکمہ سیاحت نے 24گھنٹے سروس فراہم کرنے کیلئے ہیلپ لائن قائم کردی ہے، سیاح کسی بھی ہنگامی صورتحال پر 1421 پر رابطہ کر کے پنجاب ٹورازم اسکواڈ سے مدد حاصل کر سکتے ہیں۔

پنجاب ٹورازم اسکواڈ پہلا پائلٹ پراجیکٹ ہے جس کو وسعت دی جائیگی، انہوں نے بتایا کہ ہم نے سو افراد پر مشتمل اسکواڈ کو 1122 کے تربیتی مراکز میں ایک ماہ سخت تربیت دی ہے جس میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے بارے میں سکھایا گیا ہے، ان کی بنیادی ذمہ داری یہ ہوگی کہ وہ فوری طور پر موقع پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ موسم کی خراب صورتحال میں سیاحوں کو ریسکیو کرنے کے علاوہ پنجاب ٹورازم اسکواڈ مری میں ہوٹلز کے ریٹس کی مانیٹرنگ بھی کر رہا ہے اور کسی بھی شکایت کی صورت میں فوری طور پر اسے دور کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ پنجاب ٹورازم اسکواڈ ٹریفک کو رواں دواں رکھنے میں ٹریفک پولیس کی بھی معاونت کررہی ہے، پارکنگ کے معاملات کو بھی مانیٹر کیا جارہا ہے، اوورچارجنگ روکنے کیلئے بھی اقدامات کر رہا ہے، احسان بھٹہ نے بتایا کہ ٹریننگ کے دوران تمام اہلکاروں نے قومی جوش و جذبے کے ساتھ تربیت حاصل کی۔ ماضی میں چودھری پرویز الہی ہی کے دور میں ریسکیو 1122 کے منصوبے کا آغاز کیا گیا تھا جو ہر سال ہزاروں انسانی جانیں بچانے کا باعث بنتا ہے۔

آمید کی جانی چاہیے کہ موجودہ پنجاب حکومت اپنی سابقہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس منصوبے کو بھی موثر انداز میں آگے بڑھائے گی کیونکہ محض کوئی منصوبہ شروع کر دینا بڑی بات نہیں بلکہ اصل چیلنج اس موثر انداز میں جاری رکھنا ہوتا ہے۔

عکاسی: پطرس

The post سیاحوں کی مدد اور رہنمائی کیلئے ٹورازم اسکواڈ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/ncY7N0P

پاکستان میں نظام ِخوراک کیسے محفوظ بنایا جائے؟

وطن عزیز میں شدید بارشوں سے جنم لینے والے سیلابوں نے جہاں کثیر جانی ومالی نقصان پہنچایا، وہیں تیس تا چالیس لاکھ ایکڑ رقبے پہ موجود فصلیں اور باغات بھی زیرآب کر ڈالے۔کئی مقامات پر فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔

اس باعث خدشہ ہے کہ اگلے چند ماہ تک اناج، سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں بلند رہیں گی۔گویا سیلابوں کی آفت نے پاکستان میں مہنگائی مذید بڑھا دی جو ماضی کے کئی ریکارڈ توڑ چکی ۔اس صورت حال نے نچلے و متوسط طبقات کے کروڑوں پاکستانیوں کو پریشان و سراسیمہ کر دیا جو پہلے ہی ایندھن اور اشیائے خوراک خریدنے میں اپنی بیشتر آمدن خرچ کر رہے تھے۔

ایک اہم سبق

یہ خوفناک سیلاب ہمیں بعض اہم سبق دے گئے۔اہم سبق یہ کہ پاکستان براہ راست آب و ہوائی اور موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں آ چکا جنھوں نے فضا میں سبز مکانی گیسیں بڑھنے سے جنم لیا۔یہ گیسیں چھوڑنے میں پاکستان کا حصّہ صرف ایک فیصد ہے…ستم ظریفی مگر یہ کہ ان تبدیلیوں سے متاثرہ ترین ممالک میں پاکستان کا نواں نمبر ہے۔انہی تبدیلیوں کے باعث پاکستان میں گرمی کی لہریں(Heat Waves)چلنا، قحط پڑنا، بے وقت کی اور طوفانی بارشیں ہونا اور سیلاب آنا معمول بن رہا ہے۔

ان آفات کے کئی جانی و مالی نقصانات ہیں۔سب سے بڑھ کر انھوں نے پاکستان کے نظام ِخوراک کو تباہ ہونے کے خطرے سے دوچار کر ڈالا ہے۔ یہ نظام ہی پاکستانی قوم کی زندگی ضامن ہے۔

اس سال انہی آب وہوائی تبدیلیوں کی وجہ سے زیادہ بارشیں ہوئیں۔ بارشوں سے قبل ماہ اپریل سے گرمی کی شدید لہریں چل پڑی تھیں جو ایک اور عجوبہ تھا۔ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ آب وہوائی تبدیلیوں کے سبب مستقبل میں کثیر بارشیں ہو سکتی ہیں۔مذید براں موسم گرما میں پہاڑوں پہ برف پگھلنے سے بھی دریاؤں اور ندی نالوں میں زیادہ پانی آ جاتا ہے۔ہمالیہ کے گلیشیر درجہ حرارت بڑھنے سے تیزی سے پگھل رہے ہیں۔

یوں ان کے ناپید ہونے کا خطرہ جنم لے چکا۔یاد رہے، قطبین کے بعد سب سے زیادہ گلیشیر ہمالیہ اور ہندوکش کے پہاڑوں پر ہی واقع ہیں۔حالات گویامتقاضی ہیں، حکومت فوراً دور اندیشی دکھاتے ہوئے ایسے ٹھوس اقدامات کرے کہ خاص طور پہ ہمارا نظام ِخوراک گرمی کی لہروں ،قحط،طوفانی بارشوں اور سیلابوں سے جنم لینے والی آفتوں کابخوبی مقابلہ کر سکے۔ایک اہم اور ضروری قدم نئے ڈیموں کی تعمیر ہے۔ان کے بنانے سے اہل پاکستان اور ان کے نظام خوراک کو فوائد حاصل ہوں گے۔

ڈیم بننے لازم ہو چکے

ماہرین کا کہنا ہے کہ آب وہوائی تبدیلیوں کی وجہ سے مون سون کا نظام بھی بدل رہا ہے۔اب کبھی بہت زیادہ بارشیں ہوں گی اور کبھی بہت کم ۔گویا بارشیں زیادہ ہونے سے سیلاب آ جائیں گے۔جبکہ کم بارشیں ہونے سے قحط پڑ جائے گا۔یہ ایسی انوکھی صورت حال ہے جس کا مقابلہ ڈیم موثر انداز میں کر سکتے ہیں۔پاکستان کے موزوں مقامات پر چھوٹے بڑے ڈیم بن جائیں تو ان سے دو بڑے اہم فوائد ملیں گے۔زیادہ بارشیں ہوئیں تو ان میں کثیر پانی جمع ہو سکے گا۔ابھی تو سیلاب آنے پہ لاکھوں کیوسک بیشتر سیلابی پانی بحیرہ عرب میں گر کر ضائع ہو جاتا ہے۔

ڈیموں میں جمع شدہ پانی پہلے تو عوام کو تیز وتند سیلابی ریلوں سے محفوظ رکھے گا۔بعد ازاں وہ بجلی بنانے اور کھیتی باڑی کرنے میں کام آئے گا۔ڈیموں میں زیادہ پانی ذخیرہ ہونے سے پاکستان میں کاشت کاری کا رقبہ بھی بڑھایا جا سکے گا۔حالات سے واضح ہے، پاکستان کے طول وعرض میں ڈیم بن جائیں تو اس سے ملک وقوم کو بیش بہا فوائد حاصل ہوں گے۔

اول یہ کہ پانی وافر ہونے پہ کاشت کاری کا رقبہ بڑھنے سے ملک کو اناج ، سبزی اور پھل زیادہ میسّر آئے گا۔یوں ہم وطنوں کو سستی اشیائے خوراک مہیا ہو گی جن کی بڑھتی قیمتوں نے دما غ چکرا ڈالا ہے۔دوسرے ہمیں زیادہ سستی بجلی بھی ملے گی۔ابھی تو مہنگی بجلی کے بلوں نے عوام کو حواس باختہ کر رکھا ہے۔

مہنگائی اور آبادی

ایندھن اور اشیائے خوراک کی مہنگائی کا آبادی میں اضافے سے قریبی تعلق ہے۔1947 ء میں پاکستان کی آبادی تقریباً چار کروڑ تھی۔آج یہ تعداد بائیس کروڑ کے قریب پہنچ چکی۔اس دوران کاشت کاری کے رقبے میں بھی اضافہ ہوا جو اب چار کروڑ بیس لاکھ ایکڑ تک پہنچ چکا۔لیکن یہ رقبہ مختلف وجوہ کی بنا پر بڑھنے کے بجائے سکڑ رہا ہے۔جبکہ اشیائے خورونوش کی طلب بڑھ رہی ہے۔سبھی اہم پاکستان کو پیٹ بھر غذا درکار ہے۔مگر ہمارا زرعی شعبہ مختلف وجوہ کہ بنا پر خوراک کی طلب پوری نہیں کر پا رہا۔اسی لیے پاکستان میں غذائیں مہنگی ہیں بلکہ ان کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس باعث آج لاکھوں پاکستانی مرد، خواتین اور بچے رات کو بھوک کی حالت میں سونے پر مجبور ہو چکے۔یہ امر واضح ہے کہ وطن عزیز میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو ایک وقت آئے گا نچلے و متوسط طبقوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں پاکستانی بیشتر غذائیں خریدنے کی سکت کھو بیٹھیں گے۔اس صورت میں معاشرے میں بے چینی اور انتشار جنم لے گا۔حکومت پاکستان کی ذمے داری ہے کہ وہ ایسے ٹھوس اقدامات کرے جو ملک میں اشیائے خور ونوش کی قیمتوں میں استحکام لے آئیں۔ اور ہر پاکستانی کو پیٹ بھر کر کھانا مل سکے۔یہی نہیں اسے جو غذائیت (Nutrition) درکار ہیں، وہ بھی مل جائیں۔

ایک اہم اقدام یہی ہے کہ دریاؤں پہ اور ان علاقوں میں ڈیم تعمیر کیے جائیں جہاں سیلابی ریلے جنم لیتے ہیں۔مثلاً اس سال کوہ سلیمان پر شدید بارشوں نے بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں تباہی پھیلا دی۔

اگر کوہ سیلمان کے سیلاب روکنے کے لیے بڑا ڈیم بنا ہوتا تو نہ صرف سیلابی ریلے جنم نہ لیے بلکہ کثیر مقدار میں پانی بھی ذخیرہ ہو جاتا۔یہ پانی پھر زراعت اور بجلی بنانے میں کام آتا۔لہذا یہ ضروری ہے کہ بارشوں سے پیدا شدہ ریلوں کے راستوں پہ موزوں مقامات پر ڈیم بنائے جائیں۔یہ ڈیم نہ صرف انسانوں، جانوروں اور فصلوں کو سیلاب سے محفوظ رکھیں گے، ان کی مدد سے قیمتی پانی ذخیرہ بھی کیا جا سکے گا۔

پانی کی کمی

یہ یاد رہے، آبادی بڑھنے سے وطن عزیز میں پانی کی کمی بھی جنم لے چکی۔1947ء میں ہر پاکستانی کو سال بھر میں 5620 کیوبک میٹر پانی میسّر تھا۔اب ہر پاکستانی کو صرف 935 کیوبک میٹر پانی دستیاب ہے۔قلت کے باعث ہی خصوصاً شہروں میں اکثر پانی نایاب ہو جاتا ہے۔تب اسے پانے کے لیے شہریوں کو دوڑدھوپ کرنا پڑتی ہے۔کراچی میں تو پانی کے ٹینکوں کی خریدوفروخت عام ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اہل پاکستان نے پانی محفوظ کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے تو 2040ء تک ہر پاکستانی کو صرف 500 کیوبک میٹر سالانہ پانی میّسر ہو گا۔گویا تب پانی سونے کی طرح قیمتی بن جائے گا…وہ پانی جسے آج بھی بہت سے بے حس ہم وطن معمولی سمجھ کر بے دریغ ضائع کردیتے ہیں اور اپنے ضمیر پہ کوئی بوجھ محسوس نہیں کرتے۔عالمی اصول یہ ہے کہ جس ملک میں ہر شہری کو 1800کیوبک میٹر سالانہ پانی نہیں مل رہا تو سمجھیے کہ وہاں پانی کی کمی واقع ہو چکی۔

اس لحاظ سے پاکستان میں پانی کی کافی قلت جنم لے چکی تاہم بیشتر لوگ اس خرابی کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔وہ پانی کو مال ِمفت سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔پانی کے نظام کی دیکھ بھال کرنے والے سرکاری محکمے بھی الاماشاء اللہ غیر ذمے داری کا شاہکار ہیں۔پانی کی پائپ لائن کہیں پھٹ جائے تو کئی دن گذر جاتے ہیں ، اس کی مرمت نہیں ہو پاتی۔اس دوران ہزارہا کیوبک فٹ بیش قیمت پانی ضائع ہو جاتا ہے۔

دنیا کے سبھی زرعی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی بیشتر میٹھا پانی شعبہ زراعت میں استعمال ہوتا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے کسانوں کی اکثریت کاشت کاری کے فرسودہ طریقے استعمال کرتی ہے۔اسی لیے کھیتی باڑی کے دوران پانی کی کھپت کافی زیادہ ہے۔ایک تحقیق کے مطابق پاکستانی کسان ہی دنیا میں سب سے زیادہ پانی استعمال کرتے ہیں۔جبکہ اکثر ملکوں میں زراعت کے ایسے طریقے اپنائے جا چکے جن میں پانی کم استعمال ہوتا ہے، نیز پیداوار بھی زیادہ ملتی ہے۔

لہذا حکومت کو چاہیے کہ وہ سرکاری محکموں اور نجی شعبے کے تعاون سے ایسے جامع پروگرام شروع کرے جن سے پاکستانی کسانوں کو کھیتی باڑی کے جدید طریقوں سے آگاہی مل سکے۔تعلیم یافتہ پاکستانی کسان ازخود بھی ان طریقوں سے شناسائی پا سکتے ہیں۔اس سے انھیں یہ زبردست فائدہ ملے گا کہ پانی کی کھپت کم ہونے کے ساتھ ساتھ پیداوار میں اضافہ ہو جائے گا۔

سستی آبی بجلی
ڈیموں کی تعمیرکا دوسرا بڑا فائدہ یہ ہے کہ پاکستان کو سستی آبی بجلی وافر میّسر آئے گی۔اس وقت بجلی ہی تیل یا پٹرول کو پیچھے چھوڑتے دنیا کا اہم ترین ایندھن ہونے کا اعزاز پا چکی۔اسی لیے ترقی یافتہ ممالک میں تیزی سے بجلی کی گاڑیاں بن رہی ہیں۔اگلے ایک عشرے میں وہاں تیل سے چلنے والی گاڑیاں متروک ہو جائیں گی۔بجلی مختلف ذرائع سے بنتی ہے۔ان میں پانی بجلی بنانے کا بڑا سستا اور آسان ذریعہ ہے۔

نظریاتی طور پہ ہر جگہ چلتے پانی پہ ٹربائن لگا کر بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔پاکستان میں 60 تا 70فیصد بجلی تیل، گیس یا کوئلے سے بنتی ہے۔مگر یہ تینوں ایندھنی ذرائع بہت مہنگے ہو چکے۔

اسی لیے ان سے بنتی بجلی بھی مہنگی ہو گئی۔لیکن اس مہنگی بجلی کے بھاری بھرکم بل کروڑوں پاکستانی نہیں دے سکتے، اسی لیے انھوں نے کچھ عرصہ قبل پورے پاکستان میں احتجاج بھی کیے۔اسی احتجاج کی وجہ سے حکومت کو بلوں سے فیول ایڈجسٹمنٹ چارج ختم کرکے عوام کو ریلف دینا پڑا۔مگر نئے ڈیموں کی تعمیر سے مہنگی بجلی ہی نہیں جان کے لیے عذاب بن جانے والا لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ بھی ختم ہو سکتا ہے۔

مثال کے طور پہ وطن عزیز میں دس بڑے ڈیم بن جائیں تو وہ کم از کم بیس پچیس ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکیں گے۔فی الوقت موسم گرما میں پاکستان کو تقریباً 28 ہزار میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔جبکہ تمام ذرائع سے تقریباً 22 ہزار میگا واٹ بجلی بن رہی ہے۔چناں چہ لوڈ شیڈنگ کر کے بجلی کی کمی پہ قابو پایا جاتا ہے۔اگر جنگی بنیادوں پر نئے ڈیم تعمیر ہو جائیں تو نہ صرف اہل پاکستان کے سروں سے لوڈشیڈنگ کا عذاب ہٹے گا بلکہ انھیں سستی آبی بجلی بھی ملنے لگے گی۔گویا ایک تیر سے دو شکار والا معاملہ ہے۔

مجرمانہ حد تک غفلت
ہمارے حکمران طبقے کو اس امر کا احساس بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا کہ پاکستان کو مذید ڈیموں کی ضرورت ہے مگر سیاسی و گروہی مفادات کی وجہ سے کئی اہم ڈیم تعمیر ہونے سے محروم رہ گئے۔اب بھی جو سیاسی جماعتیں برسراقتدار آئیں، ان کے کارپرداز عموماً عوام پاکستان کی بہتری کے منصوبے بنانے سے زیادہ ذاتی مفادات کی تکمیل پہ زیادہ توجہ دیتے ہیں۔انھیں کرسی بچانے یا پھر مال بنانے کی فکر ہوتی ہے۔

یہ حقیقت بہرحال عیاں ہے کہ مستقبل میں پاکستان آب وہوائی تبدیلیوں کے باعث کبھی قحط ہو گا اور کبھی تیز بارشیں ہوں گی۔دونوں صورتوں میں ڈیم میں محفوظ پانی کام آئے گا۔ سچ یہ ہے کہ پاکستانی حکمرانوں نے ڈیموں کی تعمیر کے سلسلے میں مجرمانہ حد تک غفلت برتی۔عالمی قانون یہ ہے کہ ہر ملک میں اتنے زیادہ ذخائر آب یا ڈیم ضرور ہونے چاہیں کہ ان میں تین ماہ (120 دن) تک کے لیے پانی جمع کیا جا سکے۔یعنی قحط یا کوئی اور آفت آنے کی صورت میں تین ماہ ان ذخائر سے ضرورت کا پانی ملتا رہے۔لیکن پاکستان کے ڈیم صرف ایک ماہ (30دن) کے لیے پانی ہی ذخیرہ کر سکتے ہیں۔

معنی یہ کہ اگر خدانخواستہ کبھی بارشیں نہ ہوں اور پہاڑوں پر برف بھی نہیں پگھلے تو صرف ایک ماہ میں پاکستانی ڈیم پانی سے خالی ہو جائیں۔تب پانی نہ ہونے سے زراعت اور عام لوگوں، دونوں پہ زبردست منفی اثرات مرتب ہوں گے۔معاشرے میں انتشار اور افراتفری کی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔پانی سے محروم ہو کر عوام حکمرانوں کو جی بھی کر کوسنے دیں گے۔اسی خوفناک وقت سے بچنے کے لیے پاکستانی حکومت کو زیادہ سے زیادہ ڈیم اور ذخائر ِآب تعمیر کرنا ہوں گے …ورنہ اسے لوگوں کے پُرتشدد احتجاج کا سامنا کرنے کی خاطر تیار رہنا ہو گا۔

بھارتی حکمران بازی جیت گئے
ہر ترقی پذیر ملک کی طرح بھارت کا حکمران طبقہ بھی خود غرض اور اپنے مفادات کا اسیر ہے۔تاہم وہ عام آدمی کی تکالیف کا احساس کرتے ہوئے انھیں دور کرنے کی کوششیں بھی کرتا ہے۔وہ عوامی فلاح وبہبود کے منصوبے بناتا اور ان پہ کھربوں خرچ کرتا ہے۔بھارت کے طول وعرض میں نت نئے ڈیموں کی تعمیر بھی اس دعوی کا ثبوت ہے۔ بھارتی حکمرانوں نے آزادی کے بعد پورے ملک میں کئی ہزار نئے ڈیم تعمیر کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے، عنقریب دنیا میں سب سے زیادہ آبادی رکھنے کے باوجود بھارت سات ماہ (210 دن)تک قومی سطح پر پانی کی تمام ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں 5334 ڈیم اور ذخائر آب تعمیر ہو چکے۔جبکہ 400 ڈیم یا ذخائر آب زیرتعمیر ہیں۔ان کے علاوہ ہزارہا چھوٹے ڈیم اور آبی ذخیرے بھی معرض وجود میں آ چکے۔ان ڈیموں اور آبی ذخیروں کی وجہ سے بھارت میں نہ صرف کروڑوں ایکڑ رقبہ زیرکاشت آ چکا بلکہ 90ہزار میگا واٹ سستی آبی بجلی بھی بن رہی ہے۔اہل بھارت کو یہ زبردست کامیابی اسی لیے ملی کہ ان کے حکمران طبقے نے عوام کے ساتھ ساتھ اگلی نسلوں کی ضروریات کا بھی خیال رکھا اور دور کی سوچ رکھتے ہوئے طویل المعیاد فلاحی منصوبے بنائے۔بھارت کی پچھلے حکومتوں نے جو درخت لگائے، ان کے پھل آج کی نسلیں کھا رہی ہیں۔اس کو کہتے ہیں: بہترین انتظام

حکومت(گڈ گورنس) اور عوام کی خدمت کرنے والی سیاست!اس باب میں بھارتی حکمران طبقہ پاکستانی حکمرانوں سے بازی جیت گیا۔

ماحول دوست ڈیم بنانا ممکن
دنیا کی تقریباً ہر شے کی طرح خصوصاً بڑے ڈیم منفی پہلو بھی رکھتے ہیں۔ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ ڈیم تعمیر کرتے ہوئے قدرتی ماحول بدل جاتا ہے۔بہت سی جہگیں زیرآب آ جاتی ہیں۔وہاں آباد انسانوں کو نقل مکانی کرنا پڑتی ہے۔جبکہ جانوروں کے بسیرے بھی اجڑ جاتے ہیں۔پھر ڈیم میں رفتہ رفتہ مٹی اور ریت بھر جاتی ہے۔ اگر انھیں نہ نکالا جائے تو ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد کم ہو جاتی ہے۔

چناں چہ ڈیم کی صفائی پہ کثیر رقم خرچ ہوتی ہے۔منفی پہلوئوں کے باوجود دنیا بھی میں سائنس دانوں کی اکثریت ڈیم بنانے کی حامی بن چکی۔وجہ یہی کہ اس میں جمع شدہ پانی انسانی زندگی برقرار رکھنے والے دو اہم ترین شعبوں…زراعت اور توانائی کو رواں دواں رکھتا ہے۔یہ کھیتی باڑی میں کام آتا اور بجلی بناتا ہے ۔یہ بجلی رکازی ایندھن (تیل، گیس، کوئلے)سے بنی بجلی سے سستی اور ماحول دوست ہوتی ہے۔آبی بجلی سبزمکانی گیسیں خارج نہیں کرتی۔نیز دھوپ و ہوا سے بنی بجلی سے سستی پڑتی ہے۔ ڈاکٹر بنجمن سوکل برطانیہ کی سیکس یونیورسٹی میں انرجی پالیسی کے پروفیسر ہیں۔وہ کہتے ہیں:

’’آج کل ڈیم بنانے کی جدید ٹکنالوجی آ چکی۔اس ٹکنالوجی کی مدد سے ایسے ڈیم بنانا ممکن ہو چکا جو قدرتی ماحول پہ کم سے کم منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ڈیم بذات خود اچھے یا برے نہیں ہوتے۔ان کو جس طریقے سے تعمیر کیا جائے، وہ اچھا یا بُرا ہوتا ہے۔لہذا ایک اچھے منصوبے اور اچھی ٹکنالوجی کی مددسے ماحول دوست ڈیم بنانا ممکن ہو چکا۔‘‘

پاکستان کے نظام خوراک کو بدقسمتی سے کئی خطرات لاحق ہو چکے۔ان میں قابل ذکر یہ ہیں:’’زرعی اشیا(بیج، کھاد، کیڑے مار ادویہ) کا مہنگا ہونا، پانی کی کمی، آبادی میں اضافہ، گرمی کی لہریں، طوفانی بارشیں، قحط اور سیم وتھور۔حکومت کو چاہیے کہ وہ کسانوں کو زرعی اشیا سستی فراہم کرے، ڈیم بنائے تاکہ مطلوبہ پانی مل سکے۔نئے ڈیم بن جائیں تو پاکستان میں آب پاشی کا رقبہ چھ کروڑ ایکڑ تک پہنچ سکتا ہے۔

ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ پاکستانی کسانوں کی اکثریت کھیتی باڑی کے فرسودہ طریقے اپنائے ہوئے ہے۔ان طریقوں کی وجہ سے کھیت میں پانی، کھاد اور ادویہ زیادہ استعمال ہوتی ہیں جبکہ پیداوار بھی کم ملتی ہے۔اب تو ایسے جدید طریقے سامنے آ چکے جن کی مدد سے پانی و کھاد کم استعمال ہو تی جبکہ پیداوار بڑھ جاتی ہے۔پاکستانی کسانوں کو چاہیے کہ وہ بھی کاشت کاری کے جدید طریقے اپنا لیں۔گندم ہی کو لیجیے جو اہل پاکستان کا من پسند کھاجا ہے۔

ہمارے کسان فی ایکڑ تین ٹن گندم سالانہ اگاتے ہیں۔دیگر ملکوں میں پانچ ٹن اگنا معمول بن چکا۔نیوزی لینڈ میں تو کسان فی ایکڑ 17 ٹن تک گندم اگا رہے ہیں۔گویا ہمارے کسان جدید زرعی طریقے اپنا لیں تو گندم کی پیداوار بڑھنے سے اسے باہر سے نہیں منگوانا پڑے گا۔وطن عزیز میں گندم کی طلب ہر سال بڑھ رہی ہے۔پاکستانی کسان قابل کاشت رقبے کے 80 فیصد رقبے پہ گندم اگاتے ہیں مگر وہ مقامی ضروریات پوری نہیں کر پا رہی۔لہذا بیرون مالک سے گندم درآمد کرنا پڑتی ہے۔یوں ہمارے ذخائر زر مبادلہ پہ دبائو پڑتا ہے۔

عوام تبدیلیوں سے بے خبر
افسوس ناک امر یہ کہ آب وہوائی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان کے نظام خوراک کو جو سنگین خطرات لاحق ہو چکے، پاکستانی میڈیا انھیں کامل طور پر نمایاں نہیں کر رہا۔اس لیے پاکستانی عوام بھی ان تبدیلیوں سے بے خبر ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ بس اس سال غیر معمولی لحاظ سے زیادہ بارشیں ہو گئیں۔اگلے سال کچھ نہیں ہو گا۔حالانکہ بتایا جا چکا کہ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ آب وہوائی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان میں کئی موسمیاتی آفتیں جنم لے سکتی ہیں۔خاص طور پہ پاکستان گرمی کی شدید لہروں اور طوفانی بارشوں کا نشانہ بن سکتا ہے۔

طوفانی بارشیں دنیا میں جنم لیتا نیا عجوبہ ہے۔یہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب فضا میں آبی بخارات یا نمی زیادہ ہو جائے۔چناں چہ جب بھی اور جہاں بھی بخارات سے لدے بادل برس پڑیں، وہاں بہت تیز بارش ہوتی ہے۔ان طوفانی بارشوں کا مقابلہ کرنے کی خاطر بھی ڈیموں کی تعمیر ضروری ہے۔وجہ یہ کہ ایسی بارشوں کا پانی تیزی سے بہہ جاتا ہے اور زمین میں جذب نہیں ہوتا۔لہذا صرف ڈیم بنا کر پانی محفوظ کیا جا سکتا ہے۔

یہ واضح رہے، سال رواں میں اپریل سے جون تک پاکستان میں جنوبی پنجاب ، سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقے گرمی کی شدید لہروں کی زد میں رہے۔بلکہ جیکب آباد دنیا کا گرم ترین مقام قرار پایا۔وہاں ویٹ بلب درجہ حرارت بھی بہت بلند ہوتا ہے۔اس درجہ حرارت میں انسان وحیوان کا جسم پسینہ چھوڑ کر اپنے آپ کو ٹھنڈا نہیں کر پاتا۔چناں بدن گرم ہونے لگتا ہے۔یہ حالت برقرار رہے تو انسان بے ہوش ہو جاتا ہے۔اور اس کی موت واقع ہو سکتی ہے۔گویا پہلے گرمی کی زبردست لہروں نے جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کو ٹارگٹ کیا اور پھر یہ علاقے زوردار بارشوں کا نشانہ بن گئے۔

پاکستان کے عوام اور حکومتوں، دونوں کو اس بات کا ادراک کرنا چاہیے کہ آب وہوائی تبدیلیوں سے رونما ہوتی تبدیلیوں کے اثرات معمولی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے پہ ڈرامائی نتائج مرتب کریں گے۔

پہلا نتیجہ تو یہی ہے کہ گرمی کی لہروں سے پیدا شدہ قحط اور طوفانی بارشوں سے جنم لینے والے سیلاب ہمارے نظام ِخوراک کے لیے بڑا خطرہ بن چکے۔پاکستان زرعی ملک ہے۔یہاں آب پاشی کا بہت بڑا نیٹ ورک موجود ہے۔مگر اس سال پہلے قحط اور پھر سیلابوں نے زراعت کو بہت نقصان پہنایا۔ چناں چہ باہر سے گندم، پیاز، ٹماٹر اور دیگر اشیائے خورونوش منگوانا پڑیں۔ظاہر ہے، یہ درآمدہ غذائیں مہنگی ہوں گی۔لہذا عوام ِپاکستان کو مذید مہنگائی اور بھوک سے نبردآزما ہونا پڑے گا۔

ایک اور منڈلاتا خطرہ وسیع پیمانے پر ہجرت ہے۔قحط، بارشوں اور شدید گرمی کی وجہ سے جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی کثیر آبادی خصوصاًشہروں کی سمت ہجرت کر سکتی ہے۔تب شہروں کے نظام پر شدید دبائو پڑ جائے گا۔اب بھی کراچی، لاہور، فیصل آباد اور دیگر شہر آبادی میں اضافے کی وجہ سے ان گنت مسائل کا شکار ہیں۔سرکاری ادارے اطمینان بخش طریقے سے تمام سہولیات شہریوں کو فراہم نہیں کر پاتے۔آب وہوائی تبدیلیوں سے متاثر مہاجرین بھی شہروں میں آن بسے تو مسائل میں اضافہ ہو جائے گا۔تب شہری زندگی مذید متاثر ہو گی۔

تباہ کُن انسانی سرگرمیاں
دنیا میں اب بھی ایسے مردوزن بستے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ انسانی سرگرمیوں کے باعث آب وہوائی اور موسمیاتی تبدیلیوں نے جنم نہیں لیا۔ان کا دعوی ہے کہ یہ تبدیلیاں قدرتی ہیں۔پاکستان میں جنم لیتے موسمیاتی حالات نے دنیا کے سبھی لوگوں پہ آشکارا کر دیا کہ یہ تبدیلیاں پوری دنیا کو لپیٹ میں لے رہی ہیں۔ان کے باعث خوفناک تباہیاں بنی نوع انسان کا مقدر بن سکتی ہیں۔

غرض پاکستان کے حالات دوسرے ملکوں کی خاطر خطرے کی گھنٹی ہیں۔اور جیسا کہ فیجی کے وزیراعظم نے کہا:’’پاکستان میں سیلاب لانے کے ذمے دار اور مجرم دنیا کے سبھی انسان ہیں۔‘‘ یہ حقیقت ہے کہ دور جدید کا انسان اپنی ہوس ولالچ کے سبب کرہ ارض کا قدرتی توازن تباہ کر رہا ہے۔

پاکستان کو سمندروں کی سطح بڑھنے سے بھی خطرات لاحق ہیں۔دنیا بھر میں گلیشئر پگھلنے کے باعث سمندروں کی سطح بڑھ رہی ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ یہ سطح بڑھتی رہی تو مستقبل میں پاکستان کے کئی ساحلی علاقے سمندر کا حصہ بن جائیں گے۔یہ ممکن ہے کہ کراچی، گوادر اور پاکستانی ساحلوں کی دیگر آبادیاں زیر آب آ جائیں۔پھیلتا سمندر کئی لاکھ ایکڑ زرعی زمین بھی ہڑپ کر جائے گا۔یوں پاکستانی زراعت کو مذید نقصان پہنچے گا۔

پاکستان میں کوئی قدرتی آفت آئے تو فی الحال حکومت بیرون ممالک سے مطلوبہ مقدار میں اناج ، سبزیاں اور دالیں منگوا لیتی ہے۔مگر یہ نکتہ قابل ذکر ہے کہ تقریباً سبھی ملک آب وہوائی تبدیلیوں سے متاثر ہیں۔وہاں بھی قحط، سیلاب، جنگلوں کی آگ، سمندری طوفان، طوفانی بارشیںاور جنگیں بھی کھیتی برباد کر ڈالتی ہیں۔ان بین الاقوامی آفتوں کے باعث بیرون ممالک بھی نظام خوراک تہہ وبالا ہو چکا۔یہ نظام زرعی اشیا مہنگی ہونے کے مسئلے سے بھی دوچار ہے۔

درج بالا حالات سے واضح ہے، حکومت پاکستان اور عوام کو بھی قومی نظام ِخوراک کو تحفظ دینے اور محفوظ کرنے کے لیے فوری و ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔نئے ڈیموں کی تعمیر خصوصاً بہترین فیصلہ ہو گا۔

ساتھ ساتھ خاص طور پہ چھوٹی زمینوں کے مالک کسانوں کو زرعی اشیا سستے داموں دی جائیں ۔بجلی بھی سستی دی جائے۔ان اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔مثلاً جو کسان بددل ہو کے زراعت ترک کر رہے ہیں، وہ کھیتی باڑی کی طرف پھر مائل ہوں گے۔جبکہ زراعت میں نئی سرمایہ کاری آئے گی۔اس طرح قومی زراعت کو پھلنے پھولنے کا موقع ملے گا۔

The post پاکستان میں نظام ِخوراک کیسے محفوظ بنایا جائے؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/Jm7gnKk

بادشاہی مسجد … عظیم تاریخی عمارت مناسب دیکھ بھال سے محروم

کچھ مناظر اور مقامات انسان کو سحر زدہ کر دیتے ہیں۔ عہد رفتہ کی کچھ شاندار یادگاریں انسان کو اپنی جانب کھینچ لیتی ہیں۔

ان میں ایک عجب سی کشش انسان کو مبہوت کر دیتی ہے۔کہتے ہیں تصویر اور اصل میں فرق ہوتا ہے اور اس بات پہ یقین کرنے کو دل چاہنے لگا ہے۔ یقین کے اس سفر کی داستان منٹو پارک یعنی گریٹر اقبال پارک کے آہنی دروازے سے شروع ہوئی۔ سامنے دوراہے پہ لگے رہنمائی کرتے بورڈز کی مدد سے اپنی منزل کا تعین کیا ۔ اپنے بائیں جانب سیدھ میں چلتے ہوئے راہداری کے ارد گرد پھیلی سرسبز گھاس کے قالین نے دل موہ لیا۔ دن کے آغاز میں پیڑ پودوں کی کانٹ چھانٹ کا سلسلہ بھی جاری و ساری تھا۔ داہنی جانب پارک میں لگے جھولوں پہ چہکتے بچے زندگی کا احساس دلا رہے تھے ۔

تھوڑا آگے چل کر بائیں ہاتھ حضرت شیر شاہ ولیؒ کا مزار ہے اور آگے شاہی قلعے کی سرخ اونچی دیواریں ۔ ان دیواروں کے سنگ جنوب میں مڑ جائیں تو دائیں جانب گوردوارہ ڈیرہ صاحب شہیدی استھان سری گورو ارجن دیوجی کا مرکزی دروازہ نظر آتا ہے ۔ اور سیدھ میں چل کر بادشاہی مسجد اور شاہی قلعہ کی دیوار کے درمیان حضوری باغ  کی نمائندگی کرتا بورڈ دکھائی دے گا۔

دائیں جانب سے بادشاہی مسجد کی سمت روشنائی دروازے کو پار کر کے آگے بڑھیں تو دائیں جانب لائبریری اور اس کے آگے دیوار کے سائے میں سردار سکندر حیات کی قبر ہے اور اس سے آگے چند قدم چلنے کے بعد مغلیہ سلطنت کا عظیم شاہکار بادشاہی مسجد کے مرکزی دروازے کو جاتی سیڑھیاں اور اس کے بغل میں عظیم مفکر پاکستان علامہ اقبال کا مزار ہے۔ بادشاہی مسجد مغلیہ طرز تعمیر اور عہد رفتہ کی عظیم یادگار ہے۔

مسجد کو دیکھ کر ایک سحر طاری ہو جاتا ہے اور یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ انسان آج سے ساڑھے تین سو سال قبل چلا گیا ہے جب یہ مسجد تعمیر کی گئی تھی ۔ سرخ پتھروں سے بنی سیڑھیوں پر قدم رکھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ ہر قدم آگے بڑھتے ہوئے آج سے دور جا رہے ہیں ۔ اک احساسِ فرحت و انبساط اور عجب سی اداسی آپ کو گھیر لیتی ہے۔ مسجد میں داخل ہونے سے قبل جوتوں کی حفاظت کے لئے دائیں جانب ٹوکریاں رکھی ہیں جہاںسے ایک ٹوکن ملتا ہے جو جوتے واپس حاصل کرنے میں سہولت اور شناخت کے پیش نظر دیا جاتا ہے۔

مسجد کے مرکزی دروازے پہ محافظ ما مور ہیں اور واک تھرو گیٹ بھی ۔ لیڈی چیکر آنے والی خواتین کے پرس بھی چیک کرتی ہیں۔ دائیں جانب سے اوپر جانے والی سیٹرھیاں تبرکاتِ مقدسہ کی جانب جانے کا راستہ ہیں۔

تبرکات مقدسہ کو محفوظ بنانے کے لئے انھیں شیشوں کے ڈبوں میں رکھا کیا گیا ہے۔ وہاں آنے والے سیاح ان مقدس تبرکات کی زیارت کا شرف حاصل کر تے ہیں جن میں نبی کریم ﷺ کا سبز جبہ مبارک ،عصاء مبارک ، عمامہ شریف مع کلاہ، گدڑی مبارک، اور زلف مبارک شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ پتھر ازاں غارِ حرا، غلاف برنگ سیاہ کعبہ شریف، دستارمبارک برنگ صندل منسوب حضرت امام حسینؓ، دستارمبارک برنگ صندل منسوب حضرت امام حسنؓ ، غلاف روضہ مبارک حضرت امام حسینؓ اور دیگر مقدس شخصیات سے منسوب تبرکات موجود ہیں ۔

ان تبرکات کو دیکھ کر پاکیزگی کا احساس رگ و پے میں دوڑ جاتا ہے۔ ان تبرکات پہ مامور نگران دعا کے لئے کہنے کے ساتھ ساتھ ہاتھ میں پانچ سو اور ہزار، ہزار کے نوٹ رکھنے کی ترغیب دے رہے تھے جو وہ ملحقہ کمرے میں پڑے دو بڑے سبز ڈبوں میں ڈال سکیں ۔

جب ان سے پوچھا کہ ’’کیا یہ پانچ سو ہزار کا صدقہ یہاں ڈالنا ضروری ہے؟‘‘ تو وہ جواب دینےسے کترانے لگے اور یہ کہہ کر رخ موڑ لیا کہ ’’ جس کو توفیق ہوتی ہے وہی ڈالتا ہے‘‘ ۔ وہاں موجود باکس محکمہ اوقاف کی جانب سے رکھے گئے ہیں جس میں سیاح حضرات اپنی بساط کے مطابق صدقات اور نذرانہ ڈال سکتے ہیں ۔

مسجد کے وسیع وعریض صحن کے بیچوں بیچ ایک حوض ہے جبکہ اس کے اطراف میں برآمدے ہیں ۔ شمالی حصے میں طلائی قرآن پاک گیلری ہے جس میں سونے کے پانی سے لکھے ہوئے قرآن پاک شیشے کے کیس میں رکھے ہیں اور کمرے کی دونوں دیواروں پہ اللّٰہ اور محمدﷺ کے گولڈن نام فریم میں مزین کئے گئے ہیں جو اکتوبر 1979ء میں صدر و جنرل ضیاء الحق ( مرحوم) نے عطیہ کئے تھے ۔ مگر دیواروں کی حالت خستہ ہے جہاں جگہ جگہ سے روغن اکھٹرا ہوا ہے ۔

برآمدوں میں سے گزرتے ہوئے ایک عجب سے سکوت کا احساس ہوتا ہے مگر اس سکوت کو چیرتی ہوئی سکول سے فرار نوجوانوں کی آوازیں اور قہقہے ناگوار محسوس ہوتے ہیں ۔ دیواروں پہ جگہ جگہ ہدایات موجود ہونے کے باوجود بھی ہر دیوار پہ نقش و نگار بنا کر اسے بھدا اور بدنما بنانے میں وہاں آنے والوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔

برآمدوں میں ہر ستون کے پیچھے کوئی نہ کوئی منچلا سگریٹ کے کش لگاتا نوجوان نظر آتا ہے ۔ کئی تو باقاعدہ نشے میں دھت معلوم ہوتے ہیں ۔ اور المیہ یہ ہے کہ انھیں مسجد کے تقدس کا ذرہ برابر احساس نہیں ، یہاں تک کہ وہ نعرے بازی اور گنگنانے سے بھی باز نہیں آتے ۔ ستونوں میں گہری دراڑیں پڑ چکی ہیں اور محرابوں پہ لگے جالے اور دراڑیں خوفزدہ کر دیتی ہیں ۔

انتظامیہ کے ایک گارڈ کا اپنی ڈیوٹی کے بجائے ’’گائیڈ‘‘ کی ڈیوٹی کرنے کا شوق اپنے فرائض سے غفلت برتنے کی ایک مثال تھا ۔ بجائے اس کے کہ وہ برآمدوں میں نظر رکھے اور آوارہ گھومتے نوجوانوں کو مسجد سے نکال باہر کرے وہ بھاری جسامت اور بڑی موچھوں والا ٹورگائیڈبن کر چار رکنی ٹیم کو مسجد کی سیر کرانے میں مصروف تھا ۔ میناروں پہ جانے والے راستوں کو عارضی باڑیں لگا کر بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے سیاح اوپر جا کر شہر لاہور کا دلکش منظر دیکھنے سے محروم رہ جاتے ہیں ۔ مسجد کی اندرونی محرابوں پہ خوبصورت نقش و نگار مغلیہ ذوق کی ترجمانی کرتے ہیں ۔

مسجد میں ایسا ٹیکنیکل ساؤنڈ سسٹم موجود ہے جس سے بنا کسی مائیک کے بھی گونج پیدا ہوتی ہے ۔ مسجد میں ٹھنڈے پانی کے کولرز کا انتظام بھی موجود ہے جو کہ سیاحوں کی پیاس بجھانے میں معاون ہے ۔ مگر عمارت کی حالت سے شکست و ریخت عیاں ہے ۔

مسجد کا فرش بھی کئی جگہ سے مرمت کا طلب گار ہے ۔ فرش پہ لوگ سستا رہے تھے جبکہ کچھ ’’ جوڑے ‘‘ ستون کے عقب میں خوش گپیوں میں مشغول تھے مگر کوئی گارڈ اس صورت حال پہ نظر ڈالنے کا روا دار نہیں تھا ۔ مسجد کے جنوبی حصہ میں لگے سارے دروازوں پہ تالے لگے تھے اور اس حصہ کو کاٹھ کبار کا ڈھیڑ ہی بنا کر رکھا گیا تھا ۔ وضو خانے میں پانی کا انتظام البتہ موجود تھا ۔

افسوس کی بات یہ تھی کہ وہاں آنے والا نوجوان طبقہ اسے مسجد کے بجائے ایک عام سیاحتی مقام ہی سمجھتا ہے۔ منچلے اسے پکنک سپاٹ سمجھ کر بے ہودہ حرکات میں لگے تھے جبکہ سیاح نوجوان خواتین انتہائی نامناسب لباس زیب تن کئے کھلے سر بنا دوپٹے یا سکارف کے مسجد میں دندناتی پھرتی اور ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے میں مشغول تھیں حالانکہ مسجد میں داخل ہوتے ہی تنبیہ کی جاتی ہے کہ یہاں ویڈیو بنانا سختی سے منع ہے اور اس کا جرمانہ کیا جائے گا ۔

اگست 2020ء میں صبا قمر اور گلوگار بلال سعید نے گانے کی ایک ویڈیو مسجد وزیر خان میں شوٹ کی جس پہ عوام الناس میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور پاکستان پینل کوڈ دفعہ 295 کے مطابق مذہبی مقامات کا تقدس پامال کرنے پہ دونوں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی ۔ اس سے قبل مسجدوں میں نکاح کے فوٹو شوٹ کئے جاتے تھے اور ایسی کوئی پابندی نہ تھی لیکن مسجدوں میں ویڈیو بنانے کی ممانعت کی گئی ہے ۔ اور محکمہ اوقاف کی جانب سے سخت اقدامات کئے گئے ہیں ۔ مگر یہاں صورتحال بالکل مختلف دکھائی دی ۔

اپنے ثقافتی ورثے کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔ بادشاہی مسجد جیسے تاریخی مقامات ہمارا اثاثہ ہیں اور اگر ان کی نگہداشت کو یقینی بنایا جائے تو آنے والی نسلوں کے لئے یہ ورثہ محفوظ رہے گا۔ اگرانتظامی معاملات کو مزید بہتر بنا لیا جائے اور وہاں آنے والے سیاحوں کے لئے سہولیات مہیا کی جائیں تو اس سے ملک میں سیاحت کا فروغ ممکن ہوگا۔ اس ضمن میں اوقاف کے علاوہ ہمارے ملک میں محکمہ  تحفظ ثفافتی ورثہ اور سیاحت کا اس ضمن میں اہم کردار ہے انھیں عوام میں اپنے ورثے کے تحفظ اور سیاحتی مقامات سے متعلق آگاہی کی مہم چلانی چاہئے۔

شہریوں کو کسی مقدس مقام پہ جاتے ہوئے کن باتوں کا دھان رکھنا ہے یا کسی سیاحتی مقام پہ کیسے رویوںکا مظاہرہ کرنا ہے۔ اس ضمن میں کثیر جہتی ابلاغ کے ذرائع کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ سیاحتی مقامات کی ویڈیوز، تصاویر، اشتہارات اور ڈاکومینٹریز بنا کر پیش کرنی چاہئیں۔  مسجد کی تعمیر و مرمت سالانہ نہیں بلکہ ماہانہ بنیادوں پر کی جانی چاہئے۔ وہاں موجود انتظامیہ کو حرکت میں لا کر قوانین کی پاسداری یقینی بنائی جاسکتی ہے۔

بادشاہی مسجد کیوں تعمیر کی گئی؟
جب بھی کوئی شاہکار تخلیق کیا جاتا ہے تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی سوچ ہوتی ہے کچھ مقصد ہوتا ہے ۔ بادشاہی مسجد کو مغل بادشاہ شاہجہاں کے بیٹے اورنگزیب عالمگیر نے اپنے دورِ حکومت میں سن 1658سے 1707کے درمیان دو برس (1672-74) میں تعمیر کرایا ۔ اس وقت یہ دنیا کی پانچویں بڑی مسجد ہے جبکہ اس مسجد کو 1673سے 1986کے دوران دنیا کی سب سے بڑی مسجد ہونے کا اعزاز حاصل رہا ۔

بعد ازاں یہ اعزازاسلام آباد میں موجود فیصل مسجد کو حاصل ہوا ۔ مسجد کی تعمیر کا آغاز اورنگزیب عالمگیر کے بہنوئی جو کہ اس وقت گورنر تھے مظفر حسین نے کیا ۔ بنیادی طور پہ اسے زلف مبارک حضرت محمد مصطفٰیﷺٰ کے تحفظ کے لئے بنایا گیا تھا ۔ اس کا طرز تعمیر تاج محل اور جامعہ مسجد سے متاثر ہے جو کہ اورنگزیب کے والد شاہجہاں نے آگرہ اور دہلی میں تعمیر کرائی تھی ۔

اس کی دیواروں پہ لگے سرخ پتھر کی بھی اپنی ایک منفرد پہچان ہے ۔ اسے بھارت کی ریاست راجستھان کے شہر جے پور سے درآمد کیا گیا ۔ جبکہ اس کا فرش سفید سنگ مرمر سے بنا ہے ۔ بادشاہی مسجد کا یہ منفرد اور اچھوتا طرز تعمیر اسے دیگر مساجد سے ممتاز کرتا ہے جوکہ کسی حد تک مصری طرز تعمیر سے مماثلت رکھتا ہے ۔

’’ جو اعتماد مجھے ملا ہے سب میرے پیشے کی دین ہے‘‘ فوٹوگرافر

پچھلی دودہائیوں سے بادشاہی مسجد میں فوٹوگرافی کے شعبہ سے وابستہ ایک فوٹوگرافر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پہ بات کی تو انھوں نے کچھ دلچسپ باتیں بتائیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ یہاں آنے والے سیاحوں کی فوٹوگرافی کرتے ہیں اور یہ کام وہ یہاں موجود ٹھیکے کے مطابق کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں روزانہ یہاں مختلف کلچر اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آتے ہیں اور جو سیاح بیرونِ ملک سے آتے ہیں۔

ان سے بھی سیکھنے کو ملتا ہے ۔ وہ اردو انگریزی ، چینی اور جاپانی زبان بھی جانتے ہیں ۔ انھوں نے مزید بتایا کہ وہ جب پہلی بار کیمرہ تھام کر بادشاہی مسجد میں آئے تھے تب وہ نوجوان تھے ، گھریلو حالات کی وجہ سے انھیں تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑی ۔ آج وہ نوجوان بچوں کے باپ ہیں ۔ لیکن وہ اس بات پہ تشکر کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کا تعلق ایک ایسی فیلڈ سے ہے جہاں ہر روز کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے ۔

انھوں نے جتنی بھی زبانیں سیکھیں وہ وہاں اپنے دودہائیوں کے قیام کے دوران مختلف سیاحوں سے میل جول کے ذریعے سیکھیں۔ وہ کہتے ہیں،’’ جو اعتماد مجھے ملا ہے سب میرے پیشے کی دین ہے‘‘ ۔ مشکل اوقات کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ جب سیاحوں کا سیزن ہوتا ہے اس وقت گزر بسر اچھے سے ہوتا ہے لیکن کورونا کے دوبرس کسی قیامت سے کم نہ تھے تب کوئی کام نہیں تھا اور لاک ڈائون کے دوران جو زندگی بھر کی جمع پونجی تھی وہی لٹا کر گزر بسر کیا ۔

وہ کہتے ہیں یہاں آنے والے مقامی سیاحوں کا رویہ مایوس کن ہوتا ہے ، مسجد کے آداب اور احترام کو فراموش کرتے لوگوں کو دیکھ کر دکھ ہوتا ہے مگر اس ضمن میں ہم کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں ۔ جب ان سے کسی باقاعدہ ادارے سے منسلک نہ ہونے کی وجہ دریافت کی تو ان کا کہنا تھا کہ ’’مجھے اپنے اس فیصلے پہ فخر ہے کہ میں نے کسی ادارے میں کیمرہ مین کی نوکری نہیں کی کیونکہ اداروں میں کیمرہ مینز کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے ایک کیمرہ مین کو اتنی کم تنخواہ دی جاتی ہے کہ اس کے گھر کا چولہا بھی بمشکل چل سکتا ہے ۔

میں یہاں جو کام کرتا ہوں اس میں الحمد اللّٰہ اتنا کما لیتا ہوں کہ گزر بسر اچھے سے ہو جاتی ہے۔ فوٹوگرافر عموماً ہمارے معاشرے کا وہ طبقہ ہیں جو زندگی کی دوڑ میں دھکے کھاتے اور لڑکھڑاتے سنبھلتے چلے جاتے ہیں ۔ تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے کہ چند مشہور فوٹوگرافر مقبولیت کی بنا پر بہت پیسے کما رہے ہیں لیکن نجی اداروں سے وابستہ فوٹوگرافر حضرات آج بھی مشکل سے گزر بسر کر رہے ہیں ۔ لوگوں کی یادگاروں کو محفوظ کرنے والا یہ طبقہ خود گمنامی میں ہی زندگی بسر کر دیتا ہے ۔

’’مغربی ثقافت سے متاثر خواتین سکارف کی بات کرنے پہ الجھنے لگتی ہیں‘‘ ، پروٹوکول آفیسر

جب بھی کوئی عمارت یا فن تعمیر کا شاہکار تخلیق کیا جاتا ہے تو اس کی تزئین وآرائش سے بڑھ کر اس کی دیکھ بھال اور نگہداشت ایک مشکل اور اہم امر ہوتا ہے ۔ بادشاہی مسجد کے انتظام و انصرام کی بابت ہم نے وہاں پہ محکمہ اوقات کی جانب سے تعینات پروٹوکول آفیسر اورنگ زیب سے تفصیلی گفتگو کی جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہاں سیاحوں کا زیادہ تر سیزن نومبر سے اپریل میں ہوتا ہے جس میں روزانہ بیسیوں سیاح مسجد دیکھنے آتے ہیں ۔

اورنگزیب بتاتے ہیںکہ کورونا لاک ڈائون نے یہاں آنے والے سیاحوںکی تعداد کو متاثر کیا ۔ خصوصاً جو سیاح بیرون ملک سے آتے ہیں ان کی تعداد میں خاطرخواہ کمی ہوئی۔ وہ بتاتے ہیںکہ جب کوئی اعلی سطح کا بیرونی وفد آتا ہے تو مسجد کے خطیب صاحب اور سٹاف کے اعلی افسران اسے خوش آمدید کہتے ہیں۔

سکیورٹی اور تبرکات کی چوری کی بابت سوال پہ ان کا کہنا تھا کہ نعلین پاک کے نقش چرانے کے واقعے کے بعد انتظامیہ چوکنا ہو گئی جس کا ثبوت مسجد میں جگہ جگہ نصب سکیورٹی کیمرے ہیں۔

اور تبرکات کی حفاطت کے لئے انھیں محفوظ بھی رکھا گیا ہے اور ان پہ محافظ بھی پہرا دیتے ہیں ۔ یہاںآنے والے سیاحوں کی سکیورٹی چیکنگ کے متعلق ان کا کہنا تھاکہ حضوری باغ کے مرکزی دروازے سے لے کر مسجد کے مرکزی دروازے تک گارڈز موجود ہیں ، ایسا ممکن نہیں کہ سیکورٹی پروٹوکول کو کوئی توڑ سکے ۔ مسجد کے اندر تین سکیورٹی گارڈز ہر وقت تعینات رہتے ہیں جبکہ اوقاف کی جانب سے پچپن افراد کی ایک ٹیم صفائی ستھرائی پر مامور ہے ۔ جب ان سے مسجد کی شکست و ریخت کی بابت سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ساڑھے تین سو سال گزر چکے ہیں اب وقت کے اثرات تو نمایاں ہوں گے ۔

انھوں نے بتایا کہ مسجد کی مرمت اور تزئین کا ٹھیکہ پنجاب حکومت نے آغا خان کنسٹرکشن کمپنی کو 35 کروڑ میں دیا ہے اور اس پروجیکٹ کی نگرانی محکمہ اوقاف کرے گا ۔

مسجد میں تقدس اور حرمت کا پاس رکھنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ گیٹ پہ ہی خواتین کو سکارف لینے کی ہدایات کی جاتی ہیں اور اگر کسی کے پاس نہ ہو تو اسے انتظامیہ کی جانب سے عارضی طور پہ سکارف بلا معاوضہ دیا جاتا ہے مگر افسوس کے ساتھ کچھ ممی ڈیٖڈی قسم کی آنٹیاں آگے سے بحث شروع کر دیتی ہیں اور مجبوراً بدمزگی سے بچنے کی خاطر ہمیں انھیں ننگے سر مسجد میں جانے دینا پڑتا ہے ۔

یہاں کے موجودہ خطیب مولانا عبد الخبیر آزاد ہیں جو کہ محمد عبدالقدیر آزاد کے بیٹے ہیں جو سابقہ امام بادشاہی مسجد لاہور تھے۔ عبد الخبیر آزاد چیئر مین رویت ہلال کمیٹی کے عہدے پہ بھی فائز ہیں ۔ وہ جمعہ کے روز مسجد میں خطبہ دیتے ہیں۔

The post بادشاہی مسجد … عظیم تاریخی عمارت مناسب دیکھ بھال سے محروم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/y0ubQDS

آفاتِ ارضی و سماوی میں ادب کا کردار

کرۂ ارض کو ابتدا سے ہی تغیرات کا سامنا رہا ہے۔ بعض فطری عوامل ہیں جن کے نتیجہ میں تغیراتی عمل کا تسلسل جاری ہے۔

بحکمِ باریِ تعالیٰ جب یہ عوامل اثر پذیر ہوتے ہیں تو اس کے نتیجے میں ہول ناک آفات جنم لیتی ہیں مثلاً زلزلہ، طوفان، سیلاب، آتش فشاں کا پھٹنا، قحط و خشک سالی یا وبائی امراض کا پھوٹ پڑنا۔ ان تمام ارضی و سماوی آفات کے وقوع پذیر ہونے کو مختلف زاویوں سے دیکھا، پرکھا اور ان پر اپنا نقطہ نظر بیان کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ مذہبی و سائنسی نقطہ نظر سے۔

آفاتِ ارضی و سماوی کسی بھی نوعیت کی ہوں چاہے وہ سیلاب، زلزلہ، وسیع پیمانے پر انسانوں کی ہجرت و آباد کاری ہو یا ، ہیضہ طاعون و کرونا جیسے وبائی امراض، ادیبوں نے ہمیشہ ان کو اپنا موضوع تحریر بنایا۔ ان آفات کے نتیجے میں معاشرے کو درپیش مسائل اور ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے لکھی گئی تحاریر بصورتِ نظم و نثر، ناول، افسانہ ، تماثیل یا غیرافسانوی ادب مثلاً اخباری کالمز، مضامین، مقالہ جات، لیکچرز وغیرہ کی صورت میں موجود ہیں۔

مختلف ادوار میں ارضی و سماوی آفات کے پسِ منظر میں لکھا گیا ادب ہمارے معاشرتی رویوں اور رجحانات کا عکاس ہے۔ ادیب ان موضوعات کو زیرِقلم لا کر معاشرے کی راہ نمائی اُس سمت کی طرف کرتا ہے جس سمت پر چل کر معاشرہ بہتری کی طرف گام زن ہوسکے۔

ادیب ان موضوعات پر لکھی تحاریر کے ذریعے ایک طرف تو معاشرے کی موجودہ روش کو اپنا موضوعِ بحث بناتا ہے تو دوسری طرف اپنے مشاہدے، تخیل اور تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے نئی جہتوں سے ہمیں روشناس کراتا ہے جن پر عمل پیرا ہو کر ہم ان آفات سے نبرد آزما ہونے میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ خصوصی ادب ہماری عامیانہ نظروں سے اوجھل پہلوؤں اور مسائل کو زیرِبحث لا کر انہیں معاشرے سے روشناس کراتا ہے۔

ان کے بارے میں آگاہی فراہم کرتا ہے اور ان آفات کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے مسائل کو حل کرنے کے لیے باعثِ تحریک ہوتا ہے۔ یہ خصوصی ادب معاشرے میں ان مسائل پر بات شروع کرنے کا نقطہ آغاز ہوتا ہے جو ایک خاص حلقہ تک محدود ہوتی ہے گویا اپنا موضوع بناکر جب ادیب اسے معاشرے کے سامنے پیش کرتا ہے تو وہ زبان زدِعام ہوجاتی ہے۔ ہر خاص و عام کا موضوعِ بحث ہوتی ہے اور نت نئے زاویوں اور جہتوں سے اسے پرکھا جاتا ہے اور اسے حل کرنے کے لئے کوششیں کی جاتی ہیں۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ ایسی ارضی و سماوی آفات کے نتیجے میں کیسا ادب تخلیق ہوا اور وہ معاشرے پر کس طرح اثرانداز ہوا:

ڈپٹی نذیر احمد کا 1877ء میں لکھا گیا ناول توبۃ النصوح جو تربیتِ اولاد کے لیے مکالمے کی صورت میں لکھا گیا ایک ناول ہے لیکن اس میں دہلی میں پھیلنے والے جان لیوا  وبائی مرض ہیضہ اور اس وبا کے خوف میں پیدا ہونے والی تبدیلی کو بھی زیرِبحث لا یا گیا ہے۔ اس ناول کے دیباچے سے ایک اقتباس آپ کے پیشِ خدمت ہے:

’’اب سے دُور ایک سال دہلی میں ہیضے کا اتنا زور ہوا کہ ایک حکیم بقا کے کُوچے سے ہر روز تیس تیس چالیس چالیس آدمی چھیجنے لگے۔ ایک بازارِ موت تو البتہ گرم تھا، ورنہ جدھر جاؤسناٹا اور ویرانی، جس طرف نگاہ کرو وحشت و پریشانی، جن بازاروں میں آدھی آدھی رات تک کھوے سے کھوا چھلتا تھا ایسے اُجڑے پڑے تھے کہ دن دوپہر کو بھی جاتے ہوئے ڈر معلوم ہوتا تھا۔ کٹوروں کی جھنکار موقوف، سودے والوں کی پکار بند۔ ملنا جلنا، اختلاط و ملاقات، آمدو شد، بیمار پُرسی و عیادت، باز دیدوزیارت، مہمان داری و ضیافت کی کُل رسمیں لوگوں نے اٹھا دیں۔

ہر شخص اپنی حالت میں مبتلا، مصیبت میں گرفتار، زندگی سے مایوس، کہنے کو زندہ پر مُردہ سے بد تر۔ دل میں ہمت نہ ہاتھ پاؤں میں سکت۔ یا تو گھر میں اٹوانٹی کھٹوانٹی لے کر پڑ رہا یا کسی بیمار کی تیمارداری کی یا کسی رمز آشنا کا مرنا یاد کر کے کچھ رو پیٹ لیا۔ مرگِ مفاجات حقیقت میں انہی دنوں کی موت تھی۔ نہ سان نہ گمان، اچھے خاصے چلتے پھرتے، یکا یک طبیعت نے مالش کی، پہلی ہی کلی میں حواسِ خمسہ مختل ہوگئے۔

الا ماشائاللہ کوئی جز بچ گیا تو بچ گیا، ورنہ جی متلانا اور قضائے مبرم کا آ جانا۔ پھر وصیت کرنے تک کی مہلت نہ تھی۔ ایک پاؤ گھنٹے میں تو بیماری، دوا، دُعا، جان کنی اور مرنا سب ہو چکتا تھا۔

غرض کچھ اس طرح کی عالم گیر وبا تھی کہ گھر گھر اس کا رونا پڑا تھا۔ دو پونے دو مہینے کے قریب وہ آفت شہر میں رہی مگر اتنے ہی دنوں میں شہر کچھ ادھیا سا گیا تھا۔ صد ہا عورتیں بیوہ ہوگئیں، ہزاروں بچے یتیم بن گئے۔

جس سے پوچھو شکایت، جس سے سنو فریاد۔ مگر ایک نصوح جس کا قصہ ہم اس کتاب میں لکھنے والے ہیں کہ عالم شاکی تھا، اور وہ اکیلا شکر گزار۔ دُنیا فریادی تھی اور وہ تنہا مداح۔ نہ اس سبب سے کہ اس کو اس آفت سے گزند نہیں پہنچا۔ خود اس کے گھر میں بھی اکھٹے تین آدمی اس وبا میں تلف ہوئے۔ اچھی خاصی طرح گھر بھر رات کو سو کر اٹھے۔ نصوح نمازِ صبح کی نیت باندھ چکا تھا۔ باپ بیٹے وضو کر رہے تھے۔

مسواک کرتے کرتے اُبکائی آئی۔ ابھی نصوح دوگانہ فرض ادا نہیں کر چکا تھا، سلام پھیر کر کیا دیکھتا ہے کہ باپ نے قضا کی۔ اُن کو مٹی دے کر آیا تو رشتے کی ایک خالہ تھی، اُن کو جاں بحق پایا۔ تیسرے دن گھر کی ماما رُخصت ہوئیں۔ مگر نصوح کی شکر گزاری کا کچھ اور ہی سبب تھا۔ اس کا مقولہ یہ تھا کہ ان دنوں لوگوں کی طبیعتیں کچھ درستی پر آ گئی تھیں۔ دلوں میں رقت و انکسار کی وہ کیفیت تھی کہ عمر بھر کی ریاضت سے پیدا ہونی دُشوار ہے۔

غفلت کو ایسا کاری تازیانہ لگا تھا کہ ہر شخص اپنے فرائضِ مذہبی ادا کرنے پر سرگرم تھا۔ جن لوگوں نے رمضان میں بھی نماز نہیں پڑھی تھی، وہ بھی پانچوں وقت سب سے پہلے مسجد میں آ موجود ہوتے تھے۔ جنہوں نے کبھی بھول کر بھی سجدہ نہیں کیا تھا، ان کا اشراق و تہجد تک بھی قضا نہیں ہونے پاتا تھا۔ دُنیا کی بے ثباتی، تعلقاتِ زندگی کی ناپائداری، سب کے دل پر منقش تھی۔ لوگوں کے سینے صلح کاری کے نُور سے معمور تھے۔ غرض ان دنوں کی زندگی اس پاکیزہ اور مقدس اور بے لوث زندگی کا نمونہ تھی جو مذہب تعلیم کرتا ہے۔‘‘

اس کے بعد ہم کوئٹہ میں آنے والے 1935 ء کے زلزلے کو ادبی حوالے سے دیکھیں تو یقیناً بہت کچھ اس سانحے کے تناظر میں لکھا گیا ہے لیکن میرے سامنے اس وقت معروف سفر نامہ نگار بال کشن بترہ ابر ملتانی کی دو نظمیں ہیں جن میں کوئٹہ کی شام کے دو مناظر زلزلہ سے پہلے اور زلزلہ سے بعد کی عکاسی کی گئی ہے:

زلزلے سے پہلے

آنچ سینوں کی بہ اندازِ ملامت تیز ہے

شام کی دیوی فضاؤں میں تبسم ریز ہے

ہلکے ہلکے ابر میں کچھ روشنی مستور ہے

رات ہے تاروں بھری، سطحِ فلک پُر نُور ہے

یا پرندے اڑتے پھرتے ہیں ہوا میں ہر طرف

تیرتی ہیں بدلیاں روشن فضا میں ہر طرف

جانبِ مہتاب رُخ پھیرے ہوئے ہے آبِ جُو

دامنِ کہسار کو گھیرے ہوئے ہے آبِ جُو

ہر بلند و پست سے فطرت کے گُن گاتی ہوئی

تیز رَو ندی چلی جاتی ہے بل کھاتی ہوئی

اُس کی طلعت ہو رہی ہے ذرے ذرے سے عیاں

بزمِ فطرت پہ ہیں طاری حُسن کی رنگینیاں

از زمین تا آسماں رنگینیِ قدرت ہے عام

روح افزا کس قدر ہے جلوہِ رنگین شام

فصلِ گُل ہے جوش پر بادہ کشوں کی عید ہے

طالبِ دیدارِ ساقی کو نویدِ دید ہے

کوہ بھی بن کر پری اُڑنے کو اب آمادہ ہیں

سبز پریاں ہیں کھڑی یا نخلِ گُل استادہ ہیں

روح کے بیدار کرنے کی ہیں یہ تیاریاں

دستِ قدرت کی سراسر ہیں مرصع کاریاں

ہر طرف موجِ ہوا پھرتی ہے اِترائی ہوئی

سبزہ زاروں پر شعاعِ زرد ہے چھائی ہوئی

دیکھتی رہتی ہے پہروں آنکھ اور تھکتی نہیں

الغرض ہیں اس قدر اس شام کے منظر حسیں

زلزلے کے بعد

کوئی جگنو بھی چمک کر راہ دکھلاتا نہیں

اُف وہ تاریکی نظر کچھ آنکھ کو آتا نہیں

اک بلا بیٹھی ہوکالے جل بکھرائے ہوئے

شام کیا آئی ہے غم کا جال پھیلائے ہوئے

کیوں کیا اس گُلستان کو تُو نے غارت زلزلے

کیا بھلا تُو نے دکھائی یہ قیامت زلزلے

آہ یہ کھنڈرات یہ حسرت نشاں لاشوں کے ڈھیر

یہ قیامت یہ تباہی یہ ستم اور یہ اندھیر

سو رہے ہیں گردشِ ایام کے مارے ہوئے

حسرتوں کے جستجوئے خام کے مارے ہوئے

دیکھ کر یہ منظر اندوہگین و دل فگار

زخمیوں کی شب لے سناٹے میں یہ چیخ و پکار

چل رہی ہے بادِ صرصر سسکیاں بھرتی ہوئی

دشت و صحرا میں برابر بین سا کرتی ہوئی

اشکِ شبنم ہیں فضا کے دیدہِ غمناک میں

حسرتیں مضطر نظر آتی ہیں ہر سُو خاک میں

ہوش کی دُنیا سے بیگانہ بنانے کو مُجھے

اُڑ رہی ہے خاک دیوانہ بنانے کو مُجھے

شہر ہے شہرِخموشاں اور ہر گھر ہے مزار

اب نہ وہ گلشن، نہ وہ رونق، نہ وہ رنگِ بہار

کچھ خبر ہے تجھ کو او نادان اس انجام کی

ہے جلو میں ہر سحر کے تیرگی اک شام کی

پیس دوںگا ایک گردش میں یہ جہاں کچھ بھی نہیں

کہہ رہا ہے آسماں یہ سب سماں کچھ بھی نہیں

حالیہ کرونا وبا کے پسِ منظر میں دُنیا بھر میں جو ادب نظم یا نثری شکل میں تحریر کیا گیا ہے مرحوم آصف فرخی صاحب نے اپنی اسے ایک جگہ جمع کیا اور دیگر زبانوں سے اردو میں ترجمہ بھی کروا یا۔ فرخی صاحب نے ادبی جریدے دُنیا زاد کے کرونا وبا سے متعلق خصوصی شمارہ کے لیے یہ تمام تحاریر جمع کیں۔

آپ نے نہ صرف بیرونِ پاکستان سے بلکہ پاکستانی ادیبوں اور قلم کاروں سے خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اس موضوع پر لکھی اپنی تحریریں اس خصوصی شمارے کے لیے بھیجیں۔ آپ کی اس تحریک و ترغیب کے نتیجے میں پاکستان بھر سے ادیبوں اور قلم کاورں نے اپنی تحریروں کے ذریعے حصہ ڈالا۔

دنیا زاد کے وبا نمبر کا اہم حصہ افسانوں اور تراجم کاہے، جس میں نورالہدیٰ شاہ کا ’’المیہ‘‘، محمدحمیدشاہد کی تین تحریریں ’’وبا، بارش اور بندش‘‘، ’’وباکے دنوں میں اپنا مختیارا‘‘ اور ’’کورونا اور قرنطینہ‘‘ ناصرعباس نیر کا ’’مرگ عام نعمت ہے‘‘ ذکیہ مشہدی کے ’’آج کی امراؤ‘‘ اور ’’نورجہاں‘‘ ڈاکٹرفاطمہ حسن کے ’’مکر کرنے والے‘‘ اور ’’کہانی ایک سفر کی‘‘ اور شہلانقوی کا ’’ایک تنہا دن‘‘ شامل ہیں۔

شاعری میں منیب الرحمٰن، کشور ناہید، ڈاکٹرفاطمہ حسن، تنویرانجم، سلمان ثروت کی تخلیقات اور مختلف زبانوں سے دانیال شیرازی، تنویرانجم، انعام ندیم اور آصف فرخی کے تراجم شامل ہیں۔ ندیم اقبال نے گونیکیلو ایم ٹیورس کے ’’وباکے دنوں کا روزنامچہ‘‘کا ترجمہ کیا ہے۔

عثمان قاضی ’’کووڈ19ڈائری‘‘، انیس ہارون ’’ڈائری‘‘ کے ساتھ موجود ہیں۔ کشور ناہید، فاطمہ حسن اور عشرت آفریں کی نظمیں بھی اس شمارے کا حصہ ہیں۔ کرونا وبا کو شعراء نے بھی اپنا موضوع سخن بنایا ہے۔ شعراء نے اپنی شاعری میں کہیں تو ان آفاتی موضوعات کو حقیقی اور کہیں ان موضوعات کو تشبیہ یا استعارے کے طو پر استعمال کیا ہے۔

نثر نگاری میں قدرتی آفات اور ماحولیاتی تحفظ کے ضمن میں لکھے گئے ناول جیسا کہ قرۃ العین حیدر کا ناول آخر شب کے ہمسفر؛ شوکت صدیقی کا جانگلوس؛ مستنصر حسین تارڑ کا بہاؤ؛ خالد فتح محمد کا ناول کوہِ گراں؛ آمنہ مفتی کا ناول پانی مر رہا ہے وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔

آئیے آخر میں ان آفات سے متعلق چند اشعار ملاحظہ کریں:

زلزلہ

گرا گیا ہے جو شاداب سبز پیڑوں کو

وہ زلزلہ تھا کہ کوئی عذاب تھا، کیا تھا

محمد صدیق نقوی

زلزلہ آیا اور آ کر ہو گیا رخصت مگر

وقت کے رخ پر تباہی کی عبارت لکھ گیا

فراز حامدی

لوگ ملبوں میں دبے سائے بھی دفنانے لگے

زلزلہ اہل زمیں کو بد حواسی دے گیا

محسن نقوی

زندگی جس کی اجڑ جاتی ہے اس سے پوچھو

زلزلہ شہر میں آتا ہے چلا جاتا ہے

ہاشم رضا جلالپوری

سیلاب

سیلاب کی سماعتیں، آندھی کو رہن تھیں

کیا ڈوبتے ہَوؤں کی صدائیں سمیٹتیں

زر خیزیوں سے اپنی پریشان تھی زمیں

کائی کی طرح لاشیں چٹانوں پہ اُگ گئیں

پانی کی پیاس ایسی کہ بجھتی نہ تھی کہیں

پیڑوں کا ظرف وہ کہ جڑیں تک نکال دیں

دریا کی تشنگی میں بڑی وحشتیں رہیں

بچوں کے خواب پی کے بھی حلقوم خشک تھے

نیندیں ہوائے تُند کی موجوں کو بھا گئیں

بارش کے ہاتھ چُنتے رہے بستیوں سے خواب

آندھی کو تھامنے کی بڑی کوششیں ہوئیں

ملبے سے ہر مکان کے، نکلے ہوئے تھے ہاتھ

تہہ سے، دُعا لکھی ہُوئی پیشانیاں تھیں

تعویذ والے ہاتھ مگرمچھ کے پاس تھے

جنگل کی وحشتیں بھی سمندر سے مل گئیں

موجوں کے ساتھ سانپ بھی پھنکارنے لگے

دریا کو سب دھنیں تو ہَواؤں نے لکھ کے دیں

بس رقص پانیوں کا تھا وحشت کے راگ پر

پروین شاکر

ہے شور ساحلوں پر سیلاب آ رہا ہے

آنکھوں کو غرق کرنے پھر خواب آ رہا ہے

فرحت احساس

بستی کے گھروں کو کیا دیکھے، بنیاد کی حرمت کیا جانے

سیلاب کا شکوہ کون کرے، سیلاب تو اندھا پانی ہے

سلیم احمد

حسرت ہو؟ تمناؤں کا سیلاب ہو؟ کیا ہو؟

تم زندہ حقیقت ہو؟کوئی خواب ہو؟ کیا ہو؟

فاروق جائسی

اپنی تنہائی کے سیلاب میں بہتے رہنا

کتنا دشوار ہے اے دوست اکیلے رہنا

طارق شاہین

آنکھوں کا پورا شہر ہی سیلاب کر گیا

یہ کون مجھ میں نظم کی صورت اتر گیا

آلوک مشرا

روتا ہوں تو سیلاب سے کٹتی ہیں زمینیں

ہنستا ہوں تو ڈھے جاتے ہیں کہسار مری جاں

خورشید اکبر

قحط:

قحط نے سارے گھر اجاڑ دیے

ایک جو بچ گیا ہے خالی ہے

انعام کبیر

لوگ روئے لپٹ کے سایوں سے

قحط انساں کی یہ نشانی ہے

فلک شیر انجم رفائیلی

آدم زادوں کی دُنیا میں جینا ہوا محال

آدمی توہر سُو ہے پر ہے قحط الرجال

شہزاد نیاز

ہے قحط نہ طوفاں نہ کوئی خوف وبا کا

اس دیس پہ سایہ ہے کسی اور بلا کا

سعید احمد اختر

کرونا (وبا):

یہ جو ملاتے پھرتے ہو تم ہر کسی سے ہاتھ

ایسا نہ ہو کہ دھونا پڑے زندگی سے ہاتھ

جاوید صبا

غم کی راتیں ہیں، فنا کے دن ہیں گریہ و آہ و بکا کے دن ہیں

تم تو پہلے ہی نہیں ملتے تھے اور پھر اب تو وبا کے دن ہیں

سید قاسم جعفری

دل تو پہلے ہی جدا تھے یہاں بستی والو

کیا قیامت ہے کہ اب ہاتھ ملانے سے گئے

ایمان قیصرانی

بھوک سے یا وبا سے مرنا ہے

فیصلہ آدمی کو کرنا ہے

عشرت آفریں

شہر گم صم راستے سنسان گھر خاموش ہیں

کیا بلا اتری ہے کیوں دیوار و در خاموش ہیں

اظہرنقوی

میں وہ محروم عنایت ہوں کہ جس نے تجھ سے

ملنا چاہا تو بچھڑنے کی وبا پھوٹ پڑی

نعیم ضرار احمد

The post آفاتِ ارضی و سماوی میں ادب کا کردار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/y9BDJfz

پی ٹی آئی ترمیم کی آڑ میں این آر او چاہتی تھی، حسن مرتضیٰ

 لاہور:  پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے پارلیمان کی بالا دستی اور ادار...